رسائی کے لنکس

پاک افغان سرحد کی نگرانی بڑھانے پر عہدیداروں کے مذاکرات


چمن پر سرحدی گزرگاہ (فائل فوٹو)

چمن پر سرحدی گزرگاہ (فائل فوٹو)

سابق سیکرٹری دفاع نعیم لودھی کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کی طوالت اور نوعیت کے پیش نظر اسے پوری طرح سے محفوظ بنانے کے لیے دیگر دوست ممالک کو بھی ان دونوں ملکوں کی مدد کرنی چاہیے۔

پاکستان اور افغانستان کے حکام نے اتفاق کیا ہے کہ 30 اپریل کے بعد افغان شہریوں کو مستند سفری دستاویزات کے بغیر پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ملکوں کے سرحدی امور سے متعلق سول اور فوجی حکام کا اجلاس رواں ہفتے پاک افغان سرحد پر طورخم میں ہوا جس میں باہمی معاملات، سرحد پر دونوں ملکوں کے حفاظتی انتظامات اور سرحد کے آرپار نقل و حرکت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان حکام نے اس موقع پر افغان شہریوں خصوصاً خواتین، بچوں اور مریضوں کے لیے پاکستان کے ویزہ میں سہولت کی درخواست بھی کی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈھائی ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد ہے اور اس پر چند ایک باقاعدہ گزرگاہوں کے علاوہ متعدد راستے ایسے بھی ہیں جو اپنی پیچیدگیوں کے باعث غیر قانونی طور پر سرحد کے آرپار نقل و حرکت خصوصاً شدت پسندوں کے زیر استعمال رہتے ہیں۔

اسلام آباد ایک عرصے سے کابل پر یہ زور دیتا آیا ہے کہ وہ اپنی طرف سرحد کی موثر نگرانی کے لیے اقدام کرے تاکہ عسکریت پسندوں اور غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے والوں کو روکا جا سکے۔

اس مطالبے میں جون 2014ء میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن "ضرب عضب" کے بعد شدت آئی تھی اور پاکستان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی کی وجہ سے عسکریت پسند سرحد پار افغان علاقوں میں فرار ہو رہے ہیں جنہیں روکنے کے لیے افغانستان کارروائی کرے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری دفاع اور فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دنیا بھر میں ممالک کے درمیان جتنے بھی دوستانہ تعلقات ہوں سرحد پر نقل و حرکت کا کوئی نہ کوئی معاہدہ ضرور ہوتا ہے جس کی پاسداری ان ممالک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کی طوالت اور نوعیت کے پیش نظر اسے پوری طرح سے محفوظ بنانے کے لیے دیگر دوست ممالک کو بھی ان دونوں ملکوں کی مدد کرنی چاہیے۔

"جس قسم کے حالات ہیں جس طریقے سے دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے تو میرا خیال ہے کہ اس چیز کی اشد ضرورت ہے کہ سرحد کو کنٹرول کیا جائے جیسے مروجہ قوانین ہیں، اس کے مطابق لوگوں کا آنا جانا ہو اور ہمارے دوست ممالک کو بھی چاہیے امریکہ کو بھی چاہیے کہ مدد کریں (اس سرحد کو) کس طریقے سے (محفوظ بنایا جائے)، آج کل ٹیکنالوجی بہت ترقی کر چکی ہے تو اس سرحد کو ٹیکنیکلی بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔۔۔ یہ پاکستان کی طرف سے تو کم سے کم مطالبہ ہے کہ آنے جانے والے لوگوں کا ریکارڈ ٹھیک اور صحیح طریقے سے آئیں جائیں جو کہ باقی تمام ملکوں میں آنے جانے کا طریقہ ہوتا ہے۔"

مبصرین یہ کہتے آئے ہیں کہ پاک افغان سرحد کی نگرانی اور آمد و رفت کو قواعد و ضوابط میں لانا مشکل ضرور ہے لیکن اس پر عملدرآمد سے بہت حد تک عسکریت پسندی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG