رسائی کے لنکس

سمجھوتے کی نگرانی کی اجازت نہیں دیں گے: شامی وزیر خارجہ


شامی وزیر خارجہ ولید المعلم (فائل فوٹو)

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی فوج کو شام کے چار علاقوں میں "کشیدگی کم کرنے" کے سجھوتہ کی نگرانی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ چار محفوظ علاقے شام میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کی کوشش میں قائم کیے گئے ہیں۔

روس، ترکی اور ایران نے اس معاہدے پر گزشتہ ہفتہ قازقاستان کے دارالحکومت آستانہ میں دستخط کیے تھے۔ اس سمجھوتہ کے تحت شام کی سرکاری فورسز اور باغیوں سے خصوصی زونز میں لڑائی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے حتمی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں کہ کس طرح شامی فورسز اور باغی تشدد کو کم کریں گے، ان دونوں فریقوں نے اس سمجھوتہ پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

معلم نے پیر کا کہا کہ "ایسی بین الاقوامی فورسز موجود نہیں ہوں گی جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں کام کریں۔ "

تاہم انہوں نے بتایا کہ اس سمجھوتے کے ضامن کے طور پر روس نے کہا کہ "ملٹری پولیس اور نگرانی کے مراکز موجود ہوں گے۔"

تاہم شامی وزیر خارجہ نے اس بارے میں تفصیل بیان نہیں کی کہ اس پولیس فورس میں کون شامل ہو گا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جم میٹس نے پیر کو کہا کہ اب بھی اس سمجھوتے کے بارے میں بہت سارے سوال موجود ہیں۔

میٹس نے پیر کو کہا کہ "ہم اس تجویز کو دیکھیں گہ کہ کیا یہ قابل عمل ہے۔ کیا یہ داعش کے خلاف لڑائی پر اثر انداز ہو گی؟ میں سمجھتا ہوں کہ بین الاقوامی برادری داعش کو پسپا کرنے کے معاملے پر متحد ہے۔"

امریکہ نے شام میں "محفوظ علاقوں" کی تجویز کی حمایت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG