رسائی کے لنکس

دوہزار گز پر مشتمل احاطے کی دیواروں پر کئی کئی فٹ اوپر تک سیم و تھور آگیا ہے۔ دن بھر یہاں آوارہ کتےگھومتے اور بچے بکریاں چراتے اور ان کے لئے گھانس کاٹتے نظر آتے ہیں

مہدی حسن کی قبر کے سرہانے ایک شعر ہے کہ’اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔۔۔‘۔ ان کی موت کو چار سال ہوگئے۔ لیکن، ان کے مزار پر اب تک کوئی یادگار تعمیر نہیں ہوسکی۔ حتیٰ کہ تدفین کے وقت سے ادھورا رہ جانے والا یہ منصوبہ موسم کی سختیاں برداشت کرتے کرتے ٹوٹھ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے۔

مہدی حسن 13جون 2012ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انہیں محمد شاہ قبرستان نارتھ کراچی میں سپرد خاک کیا گیا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے موت کے فوری بعد ان کا مقبرہ بنانے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر کا کہنا تھا کہ مقبرے کا ڈیزائن ایسا ہوگا کہ دور سے ہی شہنشاہ غزل کے فن کو نمایاں کرتا نظر آئے گا۔ مزار کے احاطے میں ’یاد گار مہدی حسن‘ اور ایک اکیڈمی تعمیر کی جائے گی۔ لیکن، آج تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا۔

ادھورے منصوبے کا تلخ پہلو یہ ہے کہ آج شہنشاہ غزل کی قبر انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔مزار کا واحد گنبد ویران احاطے میں تنہا کھڑا بارش اور دھوپ کی سختیوں جھیل رہا ہے۔

گنبد کے پلرز بے رنگ اور کمزور ہوگئے ہیں۔ بلاکس تعمیر سے اب تک پلاسٹر کے لئے ترس رہے ہیں اور رفتہ رفتہ انہیں ’گھن‘ لگ گیا ہے۔۔۔ مٹی بھر بھری ہوگئی اور جھڑنے لگی ہے۔

دوہزار گز پر مشتمل احاطے کی دیواروں پر کئی کئی فٹ اوپر تک سیم و تھور آگیا ہے۔ دن بھر یہاں آوارہ کتے گھومتے اور بچے بکریاں چراتے اور ان کے لئے گھانس کاٹتے نظر آتے ہیں۔

مہدی حسن پر تحقیق کے لئے شہرت رکھنے والے آرٹ فاؤنڈیشن پاکستان کے بانی اور چیئرمین محمد فیصل ندیم کا کہنا ہے کہ یادگار نہ بنائے جانے کی واحد وجہ حکومتوں کی تبدیل اور منصوبوں میں تعطل کے سوا کچھ نہیں۔

فیصل ندیم کا کہنا ہے کہ یادگار بننے سے پہلے اگر مزار پر ایک گیٹ لگا دیا جائے تو بھی بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ محکمہٴ ثقافت اور کے ایم سی نے لوہے کا بڑا سا گیٹ بنوا بھی رکھا ہے، لیکن صرف نصب کرنے میں مہینوں لگ رہے ہیں۔

دروازے پر قفل تو دور کی بات ۔۔۔ باقاعدہ دروازہ تک نہیں۔ احاطے میں کہیں گندا پانی کھڑا ہوگیا ہے تو کہیں زمین خشک ہوکر پھٹ گئی ہے۔ سائے دار درختوں کا عنقا ہے ۔۔ دیکھ بھال کرنے والا اور پتہ بتانے والا تک کوئی نہیں۔

قبرستان کے ایک نگراں مشتاق احمد کا کہنا ہے یہاں کبھی کبھار ہی کوئی پرستار یا عزیز یہاں آتا دکھائی دیتا ہے، ورنہ زیادہ تر لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہوچکے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر جلد کوئی یادگار تعمیر نہ ہوئی تو مہدی حسن کسی بوسیدہ کتاب میں لکھا قصہ پارینہ بن جائیں گے اور اگلی نسل شہنشاہ غزل کا کوئی اتا پتہ بھی روئے زمین پر نہ پاسکے گی۔

XS
SM
MD
LG