رسائی کے لنکس

جاسوسی کے لیے ویکسینیشن پروگرام استعمال نہیں ہو گا: امریکہ


امریکی عہدیدار کے مطابق سی آئی اے نے یقین دلایا ہے کہ وہ ویکسینیشن پروگرامز یا اس سے وابستہ اہلکاروں کو معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ "سی آئی اے" جاسوسی کی کارروائیوں میں ویکسینیشن پروگرام آڑ کے طور پر استعمال نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق یہ بات انسداد دہشت گردی کے لیے صدر براک اوباما کی مشیر لیسا موناکو نے صحت عامہ کے ایک درجن اسکولوں کے سربراہان کی طرف سے لکھے گئے خط کے جواب میں کہی۔

خط میں لکھا گیا تھا کہ اس طرح کے پروگراموں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے صحت عامہ کی کوششوں پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

موناکو نے کہا کہ سی آئی اے نے یقین دلایا ہے کہ وہ ویکسینیشن پروگرامز یا اس سے وابستہ اہلکاروں کو معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

2011ء میں سی آئی اے نے ایک پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں ہیپاٹائٹس ویکسینیشن پروگرام چلانے کی پیشکش کی تھی جس کا مقصد یہاں روپوش القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا ڈے این اے (جینیاتی نمونہ) حاصل کرنا تھا۔

امریکہ پاکستان میں میں کارروائی سے پہلے یہاں بن لادن کی موجودگی کی اطلاعات کی تصدیق کرنا چاہتا تھا۔

امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی میں اسامہ بن لادن مارا گیا تھا۔ ڈاکٹر آفریدی ان دنوں پاکستان کے شمال مغرب شہر پشاور کی ایک جیل میں قید ہے۔ انھیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رائج "ایف سی آر" قانون کے تحت کالعدم شدت پسند تنظیم سے روابط کے الزام میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی طرف سے چلائی جانے والی جعلی ویکسینیشن مہم کی وجہ سے ملک میں انسداد پولیو کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان، نائیجیریا اور افغانستان کے علاوہ دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں پولیو کے موذی وائرس پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا ہے اور انسداد پولیو مہم سے وابستہ رضاکاروں پر شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے یہ مہم بار بار تعطل کا شکار بھی ہوتی رہی۔
XS
SM
MD
LG