رسائی کے لنکس

اُن کے بقول، امریکی پولیس کے لئے کوئی ایک طریقہٴ کار متعین نہیں۔ ملک بھر میں پولیس کے 18000 محکمے ہیں اور ان میں سے ہر کوئی 18000 مقامی حکومتوں کی دی ہوئی لائن پر عمل کرتا ہے

ریاست واشنگٹن میں واقع ’کریمنل جسٹس ٹریننگ‘ کی کمشنر، سوزن راہر نے پارلیمنٹ کی عدالتی کمیشن کو بتایا ہے کہ امریکی پولیس کے نظام پر عوام کا اعتماد ڈگمکا رہا ہے۔

’اکیسویں صدی میں پولیس کے نظام کی حکمت عملی‘ کے موضوع پر پارلیمنٹ کی عدالتی کمیشن میں سماعت کے موقع پر، سو راہر نے کہا کہ فرگوسن اور مزوری واقعات اور اس کے ویڈیو کے اجراء کے بعد، پولیس کی کارروائیوں پر قومی سطح پر بحث چھڑ چکی ہے۔

راہر کا کہنا تھا کہ امریکی پولیس کے لئے کوئی ایک طریقہٴ کار متعین نہیں۔ ملک بھر میں پولیس کے 18000 محکمے ہیں اور ان میں سے ہر کوئی 18000 مقامی حکومتوں کی دی ہوئی لائن پر عمل کرتا ہے۔

میلکواکی کاونٹی، ویسکونسن کے شیرف ڈیوڈ کلارک نے اس موقع پر کمیٹی کو بتایا کہ اس بات کا ضرور جائزہ لینا چاہئے کہ کن حالات میں پولیس کو طاقت استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

ان کے بقول ’ہاتھ کھڑے کردئے، گولی مت مارو اور انصاف کے بغیر امن نہیں یا سیاہ فام زندگی ہے، جیسے غلط توجیحاتی اور خوشنماء نعروں کی جذباتی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہئے۔‘

کلارک کا کہنا تھا کہ یہ فرضی دستاں کے سواء کچھ نہیں کہ پولیس کسی دسرے کے مقابلے میں سیاہ فام کو زیادہ نشانہ بناتی ہے۔ انھوں نے ایک حالیہ مطالعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2009ء سے 2012ء کے درمیان پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 1191 افراد میں سے 61 فیصد سفید فام تھے، جبکہ سیاہ فام لوگوں کا تناسب صرف 32 فیصد تھا۔

XS
SM
MD
LG