رسائی کے لنکس

کراچی میں نیو ایئر کی تقریبات پر پابندی، جشن کے رنگ پھیکے


کراچی میں سانحہ پشاور کی وجہ سے اس بار نیوایئر کی محفلیں نہ سج سکیں، ساحل پر جانے والے راستوں پر 7000پولیس اہلکار تعینات ہیں، کمشنر نے پارٹیز پر پابندی عائد رکھی، جبکہ بغیر سائلنسر موٹر سائیکل چلانے، ڈبل سواری اور آتش بازی بھی ممنوع قرار دی گئی تھی

سال 2014ء کا سورج پاکستان کی حدود سے بہت دور نکل گیا ہے۔ کراچی چونکہ ملک کے ایک سرے پر اور بحیرہٴعرب کے کنارے واقع ہے، لہذا باقی ملک کے مقابلے میں یہاں کے ساحل پر رات گئے تک نئے سال کا جشن منایا جاتا ہے۔

نوجوان موٹر بائیکس پر مختلف کرتب دکھاتے ہوئے ایک دوسرے سے ریس لگا کر یا سائلنسر نکال کر تیز رفتاری سے سڑکوں پر موٹر سائیکلیں چلا، چلا کر نئے سال کا جشن مناتے ہیں؛ جبکہ ہوٹلز، ریسٹورنٹس، کیفے اور مختلف کلبس میں اس حوالے سے کھانوں اور تفریح کی محفلیں جمتی ہیں۔ لیکن، اس بار سانحہ پشاور کی وجہ سے نئے سال کی محفلیں نہ سج سکیں اور متذکرہ جگہیں ویران پڑی رہیں۔

البتہ جیسے ہی گھڑیوں نے 12 بجنے کا اعلان کیا شہر کے متعدد علاقوں میں ہوائی فائرنگ شروع ہوگئی۔ اس شور میں ہی کچھ لوگوں نے آتش بازی بھی کی۔ لیکن، پچھلے سالوں کے مقابلے میں اس کا زور نسبتاً کم رہا۔

کلفٹن اور ڈیفنس کے علاقے چونکہ ساحل کے سب سے قریب ہیں۔ لہذا، یہاں نئے سال کا جشن سب سے زیادہ منایا جاتا ہے۔ جیم خانہ، یاٹ کلب، کیفے نائن، ایلیانٹو، بلیو جنجر، بار کورڈ کیفے، کیفے 76، پومپائے اور ڈیفنس کی کھڈا مارکیٹ میں واقع تمام ہوٹلز نئے سال کی پارٹیز کے حوالے سے جانے پہچانے نام ہیں۔

اس کے علاوہ، کراچی کلب اور فائیو اسٹار ہوٹلز و ریسٹورنٹس۔۔یہ وہ جگہیں ہیں جہاں اس بار کوئی نیو ایئر پارٹی منعقد نہیں ہورہی۔ البتہ، کچھ لوگوں نے اپنے اپنے طور پر چھوٹی موٹی دعوتوں کا اہتمام کیا۔

وی او اے کے نمائندے کو مذکورہ بالا مقامات کے دورے کے موقع پر علاقے کے متعدد لوگوں اور خاص کر نوجوانوں نے بتایا کہ اس بار سانحہ پشاور کی وجہ سے کہیں بھی کوئی نیو ایئر پارٹی نہیں ہو رہی۔ اس لئے، ہر جگہ نئے سال کے رنگ پھیکے نظر آرہے ہیں۔

کراچی کے افق سے غائب ہوتا سال دو ہزار چودہ کا آخری سورج

کراچی کے افق سے غائب ہوتا سال دو ہزار چودہ کا آخری سورج

کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے 23دسمبر کو ہی نیوایئر پارٹیز کے انعقاد پر پابندی لگا دی تھی۔ اس پابندی کے تحت کسی بھی ہوٹل یا ریسٹورنٹ کو نیوایئر پارٹی ارینج کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

سندھ حکومت نے بھی ان پارٹیوں کے انعقاد کو روکنے کے لئے بہت سے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ یہاں تک کہ نوجوانوں کو ساحل پر جانے سے روکنے اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے سات ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

ادھر، محکمہٴداخلہ نے کراچی پولیس کی ہدایت پر 31دسمبر کی صبح سے یکم جنوری کی صبح تک کے لئے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ بغیر سائلنسر موٹر سائیکل چلانے اور ون ویلنگ پر بھی سختی سے پابندی عائد رہی۔

موٹر سائیکل پر ڈبل سواری

موٹر سائیکل پر ڈبل سواری

ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کو بھی ممنوع قرار دیا گیا۔ تاہم، کچھ مقامات سے ڈبل سواری پر پابندی کی خلاف ورزی کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ان میں سے کچھ مناظر وی او اے کے کیمرے میں بھی صاف نظرآئے۔

سی ویو جانے والے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور علاقہ مکینوں کو صرف کلفٹن اور درخشاں سے ہی اپنے گھروں کو جانے کی اجازت تھی۔

ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹی، کنٹونمنٹ بورڈز اور کے ایم سی انتظامیہ نے پہلے ہی علاقہ مکینوں کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG