رسائی کے لنکس

ڈینس پوشلن نے باغیوں کی ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بیلا روس میں ہونے والی بات چیت "مشکل" تھی اور ان کے بقول آئندہ ملاقات کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

یوکرین کی حکومت کے مصالحت کاروں اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان بدھ کو ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

علیحدگی پسندوں کے نمائندے ڈینس پوشلن نے باغیوں کی ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بیلا روس میں ہونے والی بات چیت "مشکل" تھی۔ ان کے بقول آئندہ ملاقات کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

مذاکرات سے قبل پوشلن نے روسی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ مصالحت کار اگلے مورچوں سے بھاری ہتھیاروں کی واپسی اور روسی بولنے والے علاقوں میں یوکرین پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے معاہدے کی راہ تلاش کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاملات پر مزید بات چیت جمعہ کو ہو گی۔

بند کمرے میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرین، علحدگی پسند تحریک، روس اور یورپ میں سلامتی و تعاون کی تنظیم کے نمائندے شریک ہوئے۔

یوکرین اور علیحدگی پسندوں میں ستمبر میں ہونے والا جنگ بندی معاہدہ بھی تا دیر لڑائی کو ختم کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اپریل سے جاری اس لڑائی میں اب تک 4700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بدھ کو مذاکرات ایک ایسے وقت ہوئے جب رواں ہفتے ہی یوکرین کی پارلیمان ملک کی غیر جانبدار اور غیر وابستہ حیثیت کو ختم کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا تھا۔

آٹھ کے مقابلے میں 303 ووٹوں سے منظور کیا گیا قانون یوکرین کا روس کی طرف سخت موقف اور مغرب کے ساتھ اسٹریٹیجک اور قریبی فوجی تعلقات قائم کرنے کی غمازی کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG