رسائی کے لنکس

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ رُڈمن کسی طور پر بھی امریکی حکومت کی نمائندگی نہیں کرتے

باسکیٹ بال کےنامور امریکی کھلاڑی، ڈینس رُڈمن شمالی کوریا کے دورے کے بعد، جِس میں اُن کی ملک کے لیڈر کِم جونگ اُن سے ملاقات شامل نہیں تھی، اب وہ چین پہنچ چکے ہیں۔

’نیشنل باسکیٹ بال ایسو سی ایشن‘ کے سابق کھلاڑی نے کہا ہے کہ وہ مایوس نہیں ہوئے، اور پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’مجھے اِس کی فکر نہیں۔ میں اُن سے پھر مل لوں گا۔‘

پیانگ یانگ کے دورے میں، رُڈمن کا مقصد اگلے ماہ شمالی کوریا کے لیڈر کی سالگرہ کے موقعے پر کھیلے جانے والے باسکیٹ بال کے نمائشی میچ میں شریک مقامی کھلاڑیوں کو تربیت دینا تھا۔

ماضی کے اپنے دوروں میں، منجھے ہوئے رُڈمن نے مسٹر کِم کے ساتھ ذاتی نوعیت کی کافی دیر تک کی ملاقاتیں کی ہیں، جنھیں وہ ’عمر بھر کا دوست‘ اور ’ایک اچھا انسان‘ قرار دے چکے ہیں۔

رُڈمن نامور امریکی شہری ہیں، جو شمالی کوریا کے لیڈر سے مل چکے ہیں۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ رُڈمن کسی طور پر بھی امریکی حکومت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

رُڈمن اِس امید کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ امریکی صدر براک اوباما کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ شمالی کوریائی لیڈروں کے ساتھ بات چیت کی جائے، جِس کے لیڈر نے گذشتہ برس ، کچھ ہفتوں تک، امریکی اہداف کو جوہری حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں۔
XS
SM
MD
LG