رسائی کے لنکس

سائنس اور ٹکنالوجی: کہکشاں اور خانہ بدوش سیارے

  • جیسیکا برمن
  • بہجت گیلانی

سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہےکہ کہکشاں میں گردش کرتے سیاروں کے ساتھ ہر ستارے کےلیے مشتری کے سائز کے دو خانہ بدوش سیارے موجود ہوسکتے ہیں

ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ کہکشاں میں خانہ بدوش سیارے کسی ستارے کے مدار میں گھومنے کی بجائے محض خلا ہی میں گردش کر رہے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کہکشان میں ستاروں کی بجائے ایسے ہی سیارے موجود ہوں۔


گزشتہ برس خلا نوردوں نے کہکشاں میں سر گرداں قریب درجن بھر خانہ بدوش سیاروں کا پتہ چلایا ۔ اور اس کے لئے ایک ایسی تکنیک استعمال کی جس میں ستاروں کی روشنی پاس سے گزرنے والے سیاروں کی کشش ثقل سے وقتی طور پر زیادہ روشن نظر آنے لگتی ہے۔ اس وقت سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ کہکشاں میں گردش کرتے سیاروں کے ساتھ ہر ستارے کے لئے Jupiter کے سائز کے دو خانہ بدوش سیارے موجود ہو سکتے ہیں۔جیوپیٹر یعنی مشتری گیس سے بھرا سیارہ نظام شمسی میں سب سے بڑا سیارہ ہے۔

کیلےفورنیامیں سٹین فورڈ یونورسٹی میں Kavli Institute for Particle Astrophysics and Cosmologyریسرچرز یا تحقیق کرنے والوں کا اب اندازہ یہ ہے کہ ستاروں کے مقابلے میں تقریبا ایک لاکھ گنا زیادہ خانہ بدوش سیارے موجود ہو سکتے ہیں۔ کیولی انسٹیٹوٹ کے ایک ریسرچ سائنسدان Louis Strigariنے اس سٹڈی کی قیادت کی جس نے Milky Way galaxy کی کشش ثقل کی شدت اور کائناتی مادے کی مقدار کا پتہ چلایا جو خانہ بدوش سیاروں کی تشکیل کے لئے موجود ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ ہم نے اندازہ لگایا کہ ایک درجن جیوپیٹر کے حجم والے گردش کرتے خانہ بدوش سیارے تو ایک آئس برگ کے سرے کا پتہ دیتے ہیں جبکہ ایک بہت بڑی تعداد ہماری اپنی کائنات میں موجود ہے‘۔


Strigari کہتے ہیں کی بظاہر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں زندگی موجود نہیں لیکن یہ عین ممکن ہے کہ کہ ان میں سے کچھ کے اندر جرثومی زندگی موجود ہو چاہے ان تک سورج کی روشنی اور حدت بھی نہ پہنچتی ہو۔و ہ کہتے ہیں: ’اگر اِن سیاروں کا ماحول مناسب ہو اور یہاں ٹیکٹونک ایکٹوٹی یا تابکاری موجود ہے ۔تو پھر حدت ٹھوس ماحول میں جذب ہو سکتی ہے اور یوں جرثومی زندگی قائم رکھنے میں معاونت کر سکتی ہے‘۔


Strigari یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسا اتفاق ہونا بھی ممکن ہے کہ دو خانہ بدوش سیارے آپس میں ٹکرا جائیں اور یہ جرثومی ملبہ نظام شمسی میں بکھر جائے۔
خلا نوردوں کو امید ہے کہ آئندہ عشرے کے دوران کئی خانہ بدوش سیاروں کی تصدیق ممکن ہو سکے گی جب نئی طاقتور دوربینیں کام کرنے لگیں گی اور ناسا ادارے کی انتہائی ترقی یافتہ دور بینو ں سے مدد لینا ممکن ہو گا۔


آپ اس سلسلے میں مزید معلومات Monthly Notices of the Royal Astronomical Society میں دیکھ سکتے ہیں ۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG