رسائی کے لنکس

جوہری عدم پھیلاؤ میں پاکستان کا کردار مؤثر بنانے پر غور


جوہری عدم پھیلاؤ میں پاکستان کا کردار مؤثر بنانے پر غور

جوہری عدم پھیلاؤ میں پاکستان کا کردار مؤثر بنانے پر غور

ایک ایسے وقت میں جب دہشت گردی اور قدرتی آفات کے خدشے سے جوہری ٹیکنالوجی کے غیر مطلوبہ نتائج پر بحث جاری ہے، دو امریکی اخبارات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں مدد کے لیے ایک بار پھر پاکستان کا نام سامنے آنے سے واشنگٹن میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے موضوع پر بحث دوبارہ گرم ہوگئی ہے اور ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی عزائم پر تشویش میں مبتلا امریکی ماہرین عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد یا آلات کی فروخت روکنے میں پاکستان کا کردار بڑھانے کے طریقوں پر غور کررہے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر اے کیو خان نے واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ فار نئیر ایسٹ پالیسی کے سمسن ہینڈرسن کو ایک ایسا خط فراہم کیا ہے ، جس میں شمالی کوریا کی جانب سے دو پاکستانی فوجی عہدیداروں کو اس کے ایٹمی پروگرام میں مدد دینے کے لئے 35 لاکھ ڈالر کی رقم رشوت کے طور پر دینے کا ذکر ہے ۔امریکی اخبارات کے مطابق واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع نے ایسے کسی بھی خفیہ خط کو جعلی قرار دیا ہے جبکہ پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی خبر بےبنیاد اور مضحکہ خیز ہے ۔

لیکن اس خبر نے عالمی سطح پر ایٹمی مواد کی سمگلنگ اور غیر قانونی ترسیل روکنے کی راہ میں حائل مشکلات کی نشاندہی کی ہے ۔

اپنے تحفظ کے لئے ہتھیار بنانا اور کسی دشمن کو میلی آنکھ سے اپنی طرف دیکھنے نہ دینا، یقینا دنیا کے اول اول ہتھیار اسی نیت سے بنے ہونگے ۔ سائنس کی ترقی نے صنعتی انقلاب سے الجھتی عالمی طاقتوں کو سادے ہتھیاروں سے آگے بڑھ کر دشمن کے دل پر حملہ کرنے کے طریقے سکھائے اور یوں وجود میں آیا دنیا کا پہلا نیوکلیئر کلب ، جس کے پانچ رکن ملکوں امریکہ ، برطانیہ ،سوویت یونین ، فرانس اور چین نے مل کر1968ء میں این پی ٹی یعنی نیوکلیئر نان پرولفریشن ٹریٹی کے نام سے نیا معاہدہ کیا ۔ جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاو روکنا تھا،مگریہ مقصد پورا نہیں ہو سکا۔

آنے والے برسوں میں بھارت اور پاکستان نے ایٹمی تجربات کئے ۔جب کہ اسرائیل نے ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کا کبھی اقرار یا انکار نہیں

کیا مگر واشنگٹن میں کسی کو اسرائیل کے پاس ایسے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں شک نہیں ہیں ۔

ترکی سمیت یورپ کے کئی ملکوں کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف اپنے مشترکہ دفاع کا معاہدہ ہے ۔سوویت یونین سے الگ ہو جانے والی تین ریاستوں یوکرین ، بیلاروس اور قازقستان کو بھی سوویت یونین سے ہزاروں ایٹمی ہتھیار ورثے میں ملے تھے مگر آزادی ملنے کے بعد کئی ریاستوں نے اپنی ایٹمی ہتھیار تلف کر دیئے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے اس عالمی معاہدے پر دستخط کر دیئے جس کے رکن ملکوں کی تعداد اب 185 ہے ۔تاہم ان میں پاکستان اور بھارت شامل نہیں۔ جبکہ شمالی کوریا اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد 2003ء میں اس سے الگ ہو گیا تھا ۔

2005ء میں میدان میں آیا ایران ، مشرق وسطی ملکوں میں ایک قائدانہ کردار کا متلاشی ۔دنیاکی 16ویں بڑی معیشت ، تیل کی دولت سے مالا مال اور 94 فیصد تعلیم یافتہ آبادی کا حا مل ملک ۔ ایران اپنے ایٹمی عزائم کو نیک نیتی پر مبنی قرار دیتا ہے مگر 1979ء اسلامی انقلاب کے بعد مغربی دنیا ایران پر یقین کرنے کو تیار نہیں ۔واشنگٹن میں ایران پر بھروسہ نہ کرنے کی ایک سے زیادہ توجیحات موجود ہیں ۔

میتھیو کروئنگ واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں گورنمنٹ کا مضمون پڑھاتے ہیں ۔ ایٹمی مواد کے غیر قانونی کاروبار پر کتاب لکھ چکے ہیں مگر ہمارے کسی بھی سوال کے جواب میں ایران سے پہلے پاکستان کا نام لیتے ہیں ۔گو کہ ان کا کہنا ہے کہ ایک ملک کے دوسرے ملک کو ایٹمی مواد کی فراہمی میں مدد دینے کا انحصار علاقائی مفادات یا سٹرٹیجک سچویشنز پر ہوتا ہے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تیاری میں چین کا کردار ایسی ہی علاقائی ضرورت کے پیش نظر تھا ۔مگر کیا پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے ؟

ان کا کہناہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جو دوسرے ملکوں کو ایٹمی مواد حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے ۔ لیکن میرے خیال میں کسی ملک کی مدد کرنا اور کسی غیر ریاستی عنصر کی مدد کرنا دو مختلف چیزیں ہیں ۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں 1945ء سے اب تک کسی ملک نے اب تک کسی دہشت گرد تنظیم یا غیر ریاستی گروپ کو ایٹمی مواد حاصل کرنے میں مدد نہیں کی ہے کیونکہ وہ گروپ خود ان کے خلاف بھی وہ ہتھیار استعمال کر سکتا ہے ۔

پروفیسر میتھیو کروئنگ کا خیال ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان نیٹ ورک کو ختم کرکے ایٹمی مواد اور معلومات کی سمگلنگ کو مکمل طور پر ختم دیا گیا ہے مگر واشنگٹن میں سب ان کے خیال سے متفق نہیں ۔

ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین ایڈ رائس کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کئی سال پہلے میں نے رنگ مگنیٹس کا معاملہ اٹھایا تھا جو چین پاکستان کوایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے منتقل کر رہا تھا ۔ ظاہر ہے ہم جانتے ہیں کہ انہیں حاصل کرنے سے پاکستان کا مقصد یہی تھا ۔اس نے ڈاکٹر اے کیو خان کی ایٹمی پھیلاؤکی صلاحیت بھی بے حد بڑھا دی ۔

اور صرف یہی نہیں ، واشنگٹن میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے موضوع پر ہونےو الی تمام تر گفتگو اے کیو خان اور پوسٹ اے کیو خان دور کے حوالے سے ہو تی رہی ہے ۔ 2004ء میں پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہر شخص قانون توڑ رہا ہے ۔ بھارت نے کیسےایٹمی صلاحیت حاصل کی ۔ اسرائیل نے کیسے ایٹمی صلاحیت حاصل کی ، تو پاکستان نے بھی ایسا ہی کیا ۔ اور کوئی بھی ملک جو اپنے پڑوسی ملک کی ایٹمی صلاحیت سے خطرہ محسوس کرے گا ، اسے ایسا کرنے کا حق ہے ۔

لیکن واشنگٹن میں بعض ماہرین کو یقین ہے کہ 2004ء میں سامنے آنے والے ایٹمی مواد کی سمگلنگ کے معاملے میں حکومت پاکستان ملوث نہیں تھی ۔

ڈیوڈ آلبرائٹ کا کہنا ہے کہ ہماری ریسرچ کا نتیجہ یہ تھا کہ پاکستانی حکومت اس میں شامل نہیں تھی ۔ انہوں نے اے کیو خان سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ شمالی کوریا ، ایران اور لیبیا کو ایٹمی مواد بیچیں ۔ یہ اس سے کہیں پیچیدہ معاملہ تھا ۔ ہم نے مختلف کیسز کا جائزہ لیا اور سب کو میرٹ پر پرکھا ۔ مثال کے طور پر لیبیا کے کیس میں ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پاکستانی حکومت نے اس کی منظوری دی تھی کہ وہ سب سامان سینٹری فیوجز اور نیوکلیئر ہتھیاروں کے ڈیزائنز لیبیائی حکومت کو بیچے جائیں ۔ یہ ایک نیٹ ورک تھا کوئی فرشتوں کی تنظیم نہیں ۔ ڈاکٹر اے کیو خان اس کے سربراہ تھے اور باقی اس کے اہم کردار تھے ، جن میں سے ایک دوبئی اورایک ملائیشیا میں تھا ۔

تاہم بعض امریکی ماہرین کا کہناہے کہ ایٹمی مواد کا پھیلا ؤ روکنے کے لئے پابندیاں صرف پاکستان پرہی نہیں بھارت پر بھی لگنی چاہئے ۔ تو کیا بھارت بھی ایٹمی مواد کی فروخت میں ملوث رہا ہے ؟

ڈیوڈ آلبرائٹ کا کہناہے کہ بھارت نے بھی کیا ، ایٹمی مواد کی فروخت کا کام ۔اس نے یورینکو بیسڈ سینٹری فیوج ڈیزائن حاصل کیا ۔ جس کے لئے وہ اسی سپلائیر کے پاس گئے جو پاکستان کو بھی آلات فراہم کررہا تھا ۔ انہوں نے کچھ بالکل وہی چیزیں خریدیں جو پاکستان نے خریدی تھیں ۔ اور یہ نیٹ ورکس کتنے جنونی ہیں اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ جنہوں نے بھارت کو جو آلات سپلائی کئے ، پاکستان کو بھی وہی سپلائی کئے تھے ۔ یہ کاروباری لوگ تھے جو اپنا سودا فروخت کر رہے تھے ۔

مگر ڈیوڈ آلبرائٹ کہتے ہیں کہ آج کی ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی سے لیس دنیا میں حساس معلومات کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی کو روکنا اب صرف پاکستان یا کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ان تمام ملکوں اور اداروں کا مسئلہ ہے جن کا واسطہ حساس معلومات سے پڑتا ہے ۔۔ اور ان میں امریکہ بھی شامل ہے ۔

XS
SM
MD
LG