رسائی کے لنکس

شمالی و جنوبی کوریا کی ایک دوسرے پر گولہ باری


فائل

فائل

جھڑپ کا آغاز جمعرات کو شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کی سرحدی فوجی چوکیوں پر بمباری سے ہوا تھا۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے فوجی دستوں نے دونوں ملکوں کی مغربی سرحد پر ایک دوسرے پر گولہ باری کی ہے جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے مطابق جھڑپ کا آغاز جمعرات کو شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کی سرحدی فوجی چوکیوں پر بمباری سے ہوا تھا۔

وزارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کی بمباری کی جواب میں جنوب کے فوجی دستوں نے بھی دشمن کی چوکیوں پر توپوں سے ایک درجن گولے برسائے۔

جنوبی کوریا کی ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمال کی جانب سے مارے جانے والے گولے شمالی قصبے یونچیون کے نزدیک واقع فوجی چھاؤنی کے قریب پہاڑی علاقے میں گرے۔

مذکورہ علاقہ دارالحکومت سیول سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال بمباری سے کسی جانی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت کے معاشی پالیسی سازوں کا ایک اجلاس جمعے کو طلب کیا گیا ہے جس میں شمالی کوریا کے ساتھ پیدا ہونے والی حالیہ سرحدی کشیدگی اور اس کے معیشت اور بازارِ حصص پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزارت کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اجلاس میں وزارتِ معیشت، مرکزی بینک اور بازارِ حصص کی نگرانی کرنے والے دو مختلف اداروں کےنائب سربراہان شریک ہوں گے۔

شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز رواں ماہ اس وقت ہوا تھاجب جنوب کےدو فوجی اہلکار بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں زخمی ہوگئے تھے جس کا الزام سیول حکومت نے پیانگ یانگ پر عائد کیا تھا۔

واقعہ جنوبی کوریا کے سرحدی علاقے پاجو میں پیش آیا تھا جس کے بعد حکومت نے وہاں سے عام شہریوں کو انخلا کی ہدایت کی تھی۔

کشیدگی میں اضافے کے بعد جنوبی کوریا کی حکومت نے کھنگوا کے مغربی جزیرے اور جمعرات کو شمالی کوریا کی راکٹ باری کا نشانہ بننے والے قصبے یونچیون سے بھی عام شہریوں کو انخلا کی ہدایت کی تھی۔

بارودی سرنگ کے دھماکے کےبعد جنوبی کوریا نے سرحد پر نصب لاؤڈاسپیکروں کے ذریعے شمالی کوریا کے خلاف پروپیگنڈا نشریات کا دوبارہ آغاز کردیا تھا جو گزشتہ ایک دہائی سے معطل تھی۔

جنوبی کوریا کے اس اقدام کے جواب میں شمالی کوریا نے بھی اپنے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے جنوب کے خلاف اپنی پروپیگنڈا مہم شروع کردی تھی جس نے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ اگر جنوب نے اس کے خلاف لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے جاری "نفسیاتی جنگ بند نہ کی تو وہ اسے ختم کرنے کے لیے ہر ممکن فوجی اقدام" کرے گا۔

جنوبی کوریا کےذرائع ابلاغ کے مطابق شمال کی جانب سے جمعرات کو برسائے جانے والے گولوں کو ممکنہ ہدف پروپیگنڈا کے لیے نصب یہی لاؤڈ اسپیکرز تھے۔

XS
SM
MD
LG