رسائی کے لنکس

شمالی کوریا: غیر ملکی کھلاڑیوں کی ’میراتھن دوڑ‘ میں شرکت پر پابندی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایبولا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خطرے کی وجہ سے گزشتہ اکتوبر سے شمالی کوریا میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ بند تھا۔

شمالی کوریا نے ایبولا کے مہلک وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر غیر ملکی کھلاڑیوں پر دارالحکومت پیانگ یانگ میں بین الاقوامی ’’میراتھن‘‘ طویل فاصلے کی دوڑ میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا میں سیر و سیاحت سے متعلق ایجنسیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

شمالی کوریا ایبولا کی وبا کے شکار افریقی ممالک سے ہزاروں میل کی دوری پر واقع ہے اور یہاں اس وائرس کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ افریقی ممالک میں اب تک 9,000 سے زائد افراد ایبولا وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایبولا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خطرے کی وجہ سے گزشتہ اکتوبر سے شمالی کوریا میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ بند تھا اور اس کی طرف سے غیر ملکی امدادی کارکنوں اور سفارت کاروں پر 21 دن کے لیے ’قرانطینہ‘ میں رہنے کے اقدام پر سختی سے پابندی عائد کی گئی تھی اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ اس دوران اپنے سفارت خانےکے کمپاؤنڈ میں ہی کام کریں۔

بیجنگ میں قائم کوریو ٹورز کے ایک عہدیدار نک بونر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ "پیانگ یانگ میں ہمارے شمالی کوریا کے شراکت داروں نے ہمیں آج صبح بتایا کہ پیانگ یانگ میراتھن دوڑ میں غیر ملکی کھلاڑی حصہ نہیں لے سکیں گے"۔

چین ہی کی ایک دوسری سیاحتی ایجنسی نے بھی غیر ملکی کھلاڑیوں پر عائد کی جانے والی پابندی کی تصدیق کی ہے۔

گزشتہ سال غیر ملکی غیر کھلاڑیوں کو شمالی کوریا میں ہونے والی میراتھن دوڑ میں پہلی بار حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

شمالی کوریا نے اس سال اپنے اجتماعی کھیلوں کی ایک تقریب کو بھی بغیر کوئی وجہ بتائے منسوخ کر دیا تھا۔

موسم سرما میں ہونے والی یہ تقریب جس میں ہزاروں کھلاڑی اور اسکول کے بچے شرکت کرتے ہیں شمالی کوریا میں سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔

شمالی کوریا نے انسداد ایبولا سے متعلق اقدامات کا بڑی سختی سے نفاذ کیا ہوا ہے۔ فروری کے اوائل میں وزارت خارجہ نے ’’قرانطینہ‘‘ میں رہنے والے سفارت کاروں کو انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ کسی بھی اجلاس اور تقریب میں شرکت نہ کریں۔

XS
SM
MD
LG