رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کے وفد کی جنوبی کوریا کے عہدیداروں سے ملاقات


جنوبی کوریا کی ’وزارت یونیفیکشن‘ کے ترجمان نے کہا کہ شمالی کوریا کے وفد میں ہوانگ پانگ سو بھی شامل ہیں جو کم جونگ اُن کے بعد ملک کے دوسرے بااثر رہنما ہیں۔

شمالی کوریا کے تین اعلیٰ عہدیدار ہفتہ کو جنوبی کوریا پہنچے جہاں اُنھوں نے سیئول کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی۔

جنوبی کوریا کی ’وزارت یونیفیکشن‘ کے ترجمان نے کہا کہ شمالی کوریا کے وفد میں ہوانگ پانگ سو بھی شامل ہیں جو کم جونگ اُن کے بعد ملک کے دوسرے بااثر رہنما ہیں۔

شمالی کوریا کے وفد کے دو دیگر رہنماؤں میں شمالی کوریا کی برسراقتدار ورکرز پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار چو ریانگ ہیئی اور کم یانگ گان شامل ہیں۔

1950 سے 1953 تک ہونے والی کوریائی جنگ کے اختتام کے باوجود اب بھی دونوں ملک ’تکنیکی اعتبار‘ سے حالت جنگ ہی میں ہیں۔

شمالی کوریا کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے جنوبی کوریا کا دورہ ایک غیر معمولی عمل ہے اور اس اچانک دورے کے بارے میں بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کا سبب بنے گا۔

یہ اچانک دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن 3 ستمبر سے کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے جب کہ حال ہی میں پیانگ یانگ کی طرف سے جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہائی کے اُس بیان پر تنقید بھی کی جا رہی ہے جس میں اُنھوں نے شمالی کوریا سے کہا تھا کہ وہ ہتھیاروں کی بجائے انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے پر توجہ دے۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ برسوں میں ہونے والی جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 2010ء میں ایک جزیرے پر شمالی کوریا کی بمباری سے جنوبی کوریا کے شہری ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG