رسائی کے لنکس

شمالی کوریا: زیرحراست امریکی شہریوں کو سزا کا خدشہ


جیفری فاوول(فائل فوٹو)

جیفری فاوول(فائل فوٹو)

شمالی کوریا میں تین ماہ سے زیر حراست جیفری ایڈورڈ اور میتھیو ملر نے خدشہ ظاہر کیا ان پر مقدمہ چلا کر ان کو طویل قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

شمالی کوریا میں گزشتہ تین ماہ سے زیر حراست دو امریکی شہریوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان پر مقدمہ چلا کر ان کو طویل قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

جیفری ایڈورڈ اور میتھیو ملر کو پیانگ یانگ میں خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے نمائندے سے بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ دونوں امریکی شہریوں نے بتایا کہ اُن کی صحت اچھی ہے اور ان کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

تاہم دونوں نے امریکہ سے اپیل کی کہ ان کی رہائی کے لیے کوشش کی جائے۔

جیفری نے کہا کہ وہ امریکی وزارت خارجہ اور شمالی کوریا کے عوام سے معذرت کرنے چاہتے ہیں کیوں کہ بقول ان کے وہ ان کے لیے ایک بڑے درد سر کا باعث بنے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ملر اور جیفری نے کن حالات میں بات چیت کی، وہ دونوں اس سال اپریل میں شمالی کوریا میں بطور سیاح داخل ہوئے تھے۔

شمالی کوریا کے حکام نے اعلانیہ طور یہ نہیں کہا کہ ان پر کیا الزامات ہیں لیکن جیفری نے ایک خط میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ایک نائٹ کلب میں ’بائیبل‘ چھوڑ آئے تھے۔

جبکہ ملر کے خلاف الزمات واضح نہیں ہیں، لیکن شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ کہتے ہوئے اپنا شمالی کوریا کا ویزہ پھاڑ دیا تھا کہ وہ یہاں سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک اور امریکی شہری کینتھ بئی جو گزشتہ دو سال سے شمالی کوریا میں حراست میں ہیں، نے رواں ہفتے ایک انٹریو میں کہا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ نے ان کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے جمعرات کو کہا کہ عہدیدار کینتھ بئی کے خاندان سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انھوں نے شمالی کوریا سے اپیل کی کہ ان کو انسانی ہمدردی کی بنیادی پر رہا کر دیا جائے۔

ہارف نے صحافیوں کو کہا کہ شمالی کوریا میں جو کچھ کہا جاتا ہے ضروری ’’نہیں کہ وہ سب کچھ سچ‘‘ ہو۔

XS
SM
MD
LG