رسائی کے لنکس

شمالی کوریا میں جوہری تنصیب کے قریب نئی سرنگ کی کھدائی: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ذرائع کے مطابق بظاہر کھدائی کا تازہ ترین کام اس جگہ نہیں ہو رہا جہاں پہلے تجربات کیے گئے تھے۔

جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی کوریا اپنی ایک جوہری تنصیب کے قریب ایک نئی سرنگ کی کھدائی کر رہا ہے جس نے سیول میں ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ پیانگ یانگ ایک اور جوہری تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے ’یونہپ‘ نے نامعلوم سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شمالی کوریا نے ملک کے مشرقی ساحل پر واقع پنگ یی ری جوہری تجربات کی تنصیب پر سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں پیانگ یانگ نے اس سے قبل اپنے جوہری تجربات کیے تھے۔

خبر میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ ’’جوہری تنصیب پر لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بظاہر شمالی کوریا ایک اور سرنگ کھود رہا ہے۔‘‘

ذرائع کے مطابق بظاہر کھدائی کا تازہ ترین کام اس جگہ نہیں ہو رہا جہاں پہلے تجربات کیے گئے تھے۔

جنوبی کوریا کی یونیفیکیشن وزارت کے ترجمان جیونگ جون ہی نے کہا ہے کہ وہ ان خبروں کی تصدیق نہیں کر سکتے اور کہا کہ سیول اور واشنگٹن پیانگ یانگ کی جوہری سرگرمیوں کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔

اس سے قبل خبروں میں کہا گیا تھا کہ پیانگ یانگ ایک چوتھے جوہری تجربے کی تیاری کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا میں بند کمرے میں ایک انٹیلی جنس بریفنگ میں شرکت کرنے والے قانون سازوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ملک کی انٹیلی جنسی ایجنسی کا خیال ہے کہ شمالی کوریا ایک اور جوہری تجربے کی تیاری کر رہا ہے۔ قانون سازوں کے مطابق یہ نتیجہ اس نے شمالی کوریا کی مرکزی جوہری تنصیب پر سرگرمیوں کی نگرانی کے بعد اخذ کیا ہے۔

تاہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ پیانگ یانگ یہ سرگرمیاں صرف دنیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہے اور جوہری دھماکے کی تیاری نہیں کر رہا۔ یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب جنوبی کوریا، جاپان اور چین اتوار کو ایک سہ فریقی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جس کا مقصد شمالی کوریا کی طرف سے جوہری خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

سیول اور واشنگٹن میں مبصرین کا خیال ہے کہ پیانگ یانگ اپنی جوہری صلاحیت میں اضافے پر مسلسل کام کر رہا ہے۔ مئی میں پیانگ یانگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے چھوٹے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ واشنگٹن میں اس دعوے کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں مگر امریکی فوج کے کچھ عہدیداروں کا خیال ہے کہ پیانگ یانگ کے پاس یہ صلاحیت ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG