رسائی کے لنکس

کم جونگ ال کے بعد شمالی کوریا کا مستقبل


کم جونگ ال کے بعد شمالی کوریا کا مستقبل

کم جونگ ال کے بعد شمالی کوریا کا مستقبل

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اِل کی موت سے نہ صرف یہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ ملک کے اندر اب کیا ہو گا، بلکہ ان مذاکرات کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو گیا ہے جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں، اور جن کا مقصد شمالی کوریا کے نیوکلیئر عزائم کا خاتمہ ہے ۔

چھ فریقی مذاکرات دو سال سے رکے ہوئے ہیں ۔ اس عرصے میں مذاکرات کرنے والے لوگ مسلسل یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ بات چیت دوبارہ شروع کی جائے۔ کم جونگ ال کی موت کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے، ایسا لگتا تھا کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

واشنگٹن میں ہیرٹیج فاؤنڈیشن کے سینیئر ریسرچ فیلو بروس کلنگنر کہتے ہیں’’ستم ظریفی یہ ہے کہ کم جونگ ال کی موت کے اعلان سے جزیرہ نمائے کوریا کے بارے میں جو انتہائی اہم خبریں گردش کر رہی تھیں وہ بالکل پس پشت جا پڑیں ۔ یعنی میڈیا میں یہ افواہیں کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان بعض تصفیہ طلب امور میں اتنی پیش رفت ہو گئی ہے کہ چھہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ، اب سننے میں نہیں آرہیں۔‘‘

امریکی محکمۂ خارجہ کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی عہدے دار اس مجوزہ سمجھوتے پر پیر کے روز بات چیت کرنے والے تھے، لیکن شمالی کوریا کی طرف سے کِم کی موت کے اعلان کے بعد یہ بات چیت ملتوی کر دی گئی۔

اطلاعات کے مطابق، گذشتہ ہفتے بیجنگ میں جو بات چیت ہوئی تھی، اس کے نتیجے میں امریکہ یہ اعلان کرنے والا تھا کہ شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی تین شرائط منظور کر لی ہیں اور اس کے عوض امریکہ ،شمالی کوریا کو 240,000 ٹن غذائی اشیاء فراہم کرے گا۔
امداد فراہم کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا میں غذائی اشیاء کی صورت حال انتہائی خراب ہے ۔ اس سال موسلا دھار بارشیں ہوئی ہیں اور سخت سردی کا موسم بھی جلد شروع ہو گیا جس کی وجہ سے فصلیں خراب ہوگئیں اور شمالی کوریا کو امداد کی اپیلیں کرنی پڑیں۔

کلنگنر کہتے ہیں’’کِم کے انتقال سے دو طرفہ میٹنگیں ملتوی ہو جائیں گی نیز چھہ فریقی مذاکرات بھی پیچھے جا پڑیں گے۔ یہ وہ وقت ہے جب شمالی کوریا میں سوگ منایا جا رہا ہے، اور ممکن ہے کہ نئے لیڈر پالیسیوں پر بھی نئے سرے سے غور کریں۔‘‘

کلنگنر کہتے ہیں کہ امریکہ کے تین مطالبات یہ تھے کہ شمالی کوریا یورینیم کو افژودہ کرنے کا کام بند کر دے گا جو نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کا طریقہ ہے؛ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائے گا، اور دور مار کرنے والے نیوکلیئر میزائلوں کے ٹیسٹ بند کر دے گا ۔

سنٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی کے تجزیہ کار Zach Hosford کہتے ہیں کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ اب کیا ہوگا اور کب ہو گا۔ تا ہم، ان کا خیال ہے کہ ترقی کے مواقع موجود ہیں۔

’’مجھے ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ بات چیت دوبارہ شروع نہیں ہو سکتی۔ تا ہم، میرا خیال ہے کہ علاقے کی بیشتر طاقتیں کچھ وقت کے لیے پیچھے ہٹ گئی ہیں ۔ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کریں گے تا کہ وہ یہ طے کر سکیں کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیئے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ بالآخر چھ پارٹیوں کے مذاکرات کے ذریعے امریکہ اور علاقے کے دوسرے ملک اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔شمالی کوریا اور امریکہ کے علاوہ، چھہ پارٹیوں کے مذاکرات میں جاپان، جنوبی کوریا، روس اورچین شامل ہیں۔ اور تمام فریقین کے مقاصد ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے ۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چھ فریقوں کے میزبان کی حیثیت سے چین کا رول انتہائی اہم ہے ۔ لیکن اگرچہ وہ علاقے میں امن اور استحکام اور مذاکرات شروع کرنے کا حامی ہے، وہ شمالی کوریا کو اقتصادی امداد اور توانائی کے شعبے میں امداد فراہم کرتا ہے ۔ اس طرح یہ سارا عمل پیچیدہ ہو گیا ہے ۔

بروس کلنگنر کہتے ہیں’’شمالی کوریا کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے پیانگ یانگ کو فائدہ پہنچتا ہے اور اسے وہ چیزیں بھی نہیں کرنی پڑتیں جو چھہ فریقی مذاکرات کے تحت ضروری ہیں ۔ اس طرح شمالی کوریا تمام فائدے حاصل کرلیتا ہے اور اسے اپنے حصے کی ذمہ داریاں بھی پوری نہیں کرنی پڑتیں۔‘‘

Zach Hosford کہتے ہیں کہ حالات کو جوں کا توں رکھنا، مذاکرات میں شامل بہت سے ملکوں کے لیے مفید ہے۔ ان میں چین بھی شامل ہے ۔’’چونکہ چین بہت موقع پرست ہے اس لیے وہ شمالی کوریا میں خصوصی اقتصادی علاقوں سے، خاص طور سے شمال مشرق میں ، فائدے اٹھا رہا ہے ۔ ان علاقوں میں چینی کمپنیاں اور چینی حکومت ، شمالی کوریا اور اس کی معیشت میں کوئی بنیادی تبدیلی لائے بغیر، اقتصادی فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ لمبے عرصے میں، شمالی کوریا بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات سے متاثر ہو گا۔ Hosford کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کی سرحدیں دو بڑی اقتصادی طاقتوں، چین اور جنوبی کوریا سے ملتی ہیں ۔ ان حالات میں اس بات کا امکان نہیں کہ وہ خود کو ہمیشہ کے لیے عالمگیریت اور ٹیکنالوجی کی ترقیوں سے الگ تھلگ رکھ سکے گا۔

XS
SM
MD
LG