رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کی طرف سے بلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کا اشارہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی نے کہا کہ شمالی کوریا نے راکٹ کو فائر کرنے کے لئے ایک ٹاور کی تعمیر کی ہے جو اس (ٹاور ) سے بڑا ہے جہاں سے اس کی طرف سے 2012 میں ایک مشتبہ بلسٹک میزائل فائر کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا نے منگل کو اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایک نئے بلسٹک میزائل کے تجربے کی تیاری کر رہا ہے۔ شمالی کوریا کی طرف سے اس بات کا اظہار اس بیان کا چند گھنٹوں کے بعد سامنے آیا جس میں اس نے کہا تھا کہ اسے اپنے جوہری پروگرام کے متعلق بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

اقوام متحدہ میں اس کے مشن میں اس کے سفیر جانگ ال ہن نے ایک غیر معمولی نیوز کانفرنس میں کہا کہ "ہم ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم امریکہ کے طرف سے فوجی دباؤ اور خطرے کے ردعمل میں اپنی جوہری فورسز کی توسیع کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اور جدید بنائیں گے"۔

جانگ نے کہا کہ پیانگ یانگ "ان میں سے کسی ایک (اقدام) کو اٹھانے" کے امکان کو رد نہیں کرتا ہے۔

جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی نے کہا کہ شمالی کوریا نے راکٹ کو فائر کرنے کے لئے ایک ٹاور کی تعمیر کی ہے جو اس (ٹاور ) سے بڑا ہے جہاں سے اس کی طرف سے 2012 میں ایک مشتبہ بلسٹک میزائل فائر کیا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا قیاس ہے کہ پیانگ یانگ اکتوبر میں حکمران جماعت کے سترویں یوم تاسیس کے موقع پر اس کا تجربہ کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت پیانگ یانگ پر کسی بھی طرح کے بلسٹک میزائل کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے اور شمالی کوریا کی طرف سے ماضی میں کئے گئے تجربات کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

تاہم جانگ نے منگل کو کہا کہ "ہم ہر وہ کچھ کرنے کے لئے آزاد ہے جو (ہم) چاہتے ہیں"۔

اس سے قبل منگل کو ہی شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے کہا تھا کہ ان کے ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق بحث نہیں ہو سکتی ہے اور ان کا اصرار ہے کہ پیانگ یانگ کی صورت حال ایران سے ’’یکسر مختلف‘‘ ہے۔

چین میں شمالی کوریا کے سفیر جی جائی رے آنگ نے کہا کہ شمالی کوریا کو ’’اپنے جوہری پروگرام کو یک طرفہ طور پر منجمند کرنے یا ختم کرنے سے متعلق مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

چین میں شمالی کوریا کے سفارت خانے میں ایک غیر معمولی نیوز کانفرنس میں جی نے کہا کہ ’’شمالی کوریا کی صورت حال ایران سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ ہم نام اور حقیقت میں ایک جوہری ریاست ہیں اور ایک جوہری ریاست کے طور پر ہمارے پروگرام میں اپنے مفادات ہیں۔‘‘

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار سڈنی سیلر نے منگل کو (اس معاملے پر) بات چیت کے لیے بیجنگ کا دورہ کیا کہ شمالی کوریا کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق تعطل کا شکار چھ فریقی مذاکرات کے سلسلے کو کیسے بحال کیا جائے۔

پیر کو سیول میں حکام سے ملاقات کے بعد سیلر نے کہا کہ امریکہ پیانگ یانگ کے ساتھ بھی اسی طرح کے مذاکرات کرنے پر تیار ہے جس طرح اس نے ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے کیے تھے۔

’’ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ہماری کوششوں میں پیش رفت امریکی لچک کی ایک بہترین مثال ہے اور ہم ان ممالک سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں جن کے ساتھ ہمارے دیرینہ اختلافات رہے ہیں۔‘‘

اس ماہ کے اوائل میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں نے ایک حتمی معاہدے پر اتفاق کیا جس کے تحت پابندیوں اٹھائے جانے کے عوض ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کر دے گا۔

پیانگ یانگ کی وزار ت خارجہ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا اور ایران کے جوہری پروگرام کے درمیان کوئی موازنہ کرنا ’’غیر منطقی‘‘ ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ’’امریکی فوج کی مخالفت‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لئے شمالی کوریا کے لئے جوہری ہتھیار ضروری ہیں۔

شمالی کوریا تین جوہری تجربے کر چکا ہے۔ اس کی طرف سے تازہ ترین ٹیسٹ 2013 میں کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ اور چین کی قیادت میں شمالی کوریا کے خلاف بینکاری، سفری اور تجارتی (نوعیت) کی پابندیاں عائد کی تھیں۔

شمالی کوریا 2009 میں اس چھ فریقی مذاکراتی عمل سے الگ ہو گیا تھا جس کا مقصد اس کو اشد ضروری امداد اور سلامتی کی ضمانت کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے پر قائل کرنا تھا۔

اُن مذاکرات میں دونوں کوریائی ممالک، امریکہ، چین، جاپان اور روس شامل تھے۔

XS
SM
MD
LG