رسائی کے لنکس

کسی بھی طرح کے جوہری معاہدے میں ’دلچسپی نہیں‘: شمالی کوریا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

چین میں شمالی کوریا کے سفیر جی جائی رے آنگ نے منگل کو کہا کہ شمالی کوریا کو ’’اپنے جوہری پروگرام کو یک طرفہ طور پر منجمند کرنے یا ختم کرنے سے متعلق مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق بحث نہیں ہو سکتی ہے اور ان کا اصرار ہے کہ پیانگ ینگ کی صورت حال ایران سے ’’یکسر مختلف‘‘ ہے۔

چین میں شمالی کوریا کے سفیر جی جائی رے آنگ نے منگل کو کہا کہ شمالی کوریا کو ’’اپنے جوہری پروگرام کو یک طرفہ طور پر منجمند کرنے یا ختم کرنے سے متعلق مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

چین میں شمالی کوریا کے سفارت خانے میں ایک غیر معمولی نیوز کانفرنس میں جی نے کہا کہ ’’شمالی کوریا کی صورت حال ایران سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ ہم نام اور حقیقت میں ایک جوہری ریاست ہے اور ایک جوہری ریاست کے طور پر ہمارا پروگرام میں اپنے مفادات ہیں۔‘‘

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار سڈنی سیلر منگل کو (اس معاملے پر) بات چیت کے لیے بیجنگ کا دورہ کر رہے ہیں کہ شمالی کوریا کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق تعطل کا شکار چھ فریقی مذاکرات کے سلسلے کو کیسے بحال کیا جائے۔

پیر کو سیول میں حکام سے ملاقات کے بعد سیلر نے کہا کہ امریکہ پیانگ یانگ کے ساتھ بھی اسی طرح کے مذاکرات کرنے پر تیار ہے جس طرح اس نے ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ہماری کوششوں میں پیش رفت امریکی لچک کی ایک بہترین مثال ہے اور ہم ان ممالک سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں جن کے ساتھ ہمارے دیرینہ اختلافات رہے ہیں۔‘‘

اس ماہ کے اوئل میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں نے ایک حتمی معاہدے پر اتفاق کیا جس کے تحت پابندیوں اٹھائے جانے کے عوض ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کر دے گا۔

پیانگ یانگ کی وزار ت خارجہ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا اور ایران کے جوہری پروگرام کے درمیان کوئی موازنہ کرنا ’’غیر منطقی‘‘ ہے۔ بیان میں اس بات پر زوردیا گیا کہ ’’امریکی فوج کی مخالفت‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لئے شمالی کوریا کے لئے جوہری ہتھیار ضروری ہیں۔

شمالی کوریا تین جوہری ٹیسٹ کر چکا ہے ۔ اس کی طرف سے تازہ ترین ٹیسٹ 2013 میں کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ اور چین کی قیادت میں شمالی کوریا کے خلاف بینکاری، سفری اور تجارتی (نوعیت) کی پابندیاں عائد کی تھیں۔

شمالی کوریا 2009 میں اس چھ فریقی مذاکراتی عمل سے الگ ہو گیا تھا جس کا مقصد اس کو اشد ضروری امداد اور سلامتی کی ضمانت کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے پر قائل کرنا تھا۔

اُن مذاکرات میں دونوں کوریائی ممالک، امریکہ، چین، جاپان اور روس شامل تھے۔

XS
SM
MD
LG