رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت بڑھ رہی ہے: امریکی عہدیدار


فائل فوٹو

پیانگ ینگ نے رواں سال دو جوہری تجربات کیے تھے اور 2011 میں کم جونگ اُن کے اقتدار سنھالنے کے بعد سے شمالی کوریا نے اس حوالے سے مسلسل پیش رفت کی ہے۔

امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت تو ضرور ہے تاہم یہ کسی مطلوبہ ہدف کو نشانہ نہیں بنا سکتا ہے۔

عہدیدار نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ پیٹاگان کا خیال ہے کہ پیانگ ینگ میزائل پر جوہری ہتھیار نصب کرسکتا ہے تاہم شمالی کوریا نے یہ صلاحیت ابھی حاصل نہیں کی کہ جوہری ہتھیار کا حامل یہ میزائل اپنے مخصوص ہدف کو نشانہ بنا سکے۔

رواں سال مارچ میں ایک اعلیٰ امریکی ایڈمرل نے کہا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ شمالی کوریا نے یہ معلوم کر لیا ہو کہ ایک اتنا چھوٹا جوہری ہتھیار کیسے بنایا جا سکتا ہے کہ وہ طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل پر نصب کیا جا سکے، اگر ایسا ہے تو یہ پیانگ یانگ کو ایسے ہتھیار بنانے کے مقصد کے حصول کے قریب لے جا سکتا ہے جو امریکہ براعظم تک پہنچ سکتا ہے۔

پیانگ ینگ نے رواں سال دو جوہری تجربات کیے تھے اور 2011 میں کم جونگ اُن کے اقتدار سنھالنے کے بعد سے شمالی کوریا نے اس حوالے سے مسلسل پیش رفت کی ہے۔

امریکی بحر الکاہل ساحل پر تعینات فوج کی آئی کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سٹیفن لانزا نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے حملےکی صورت میں ان کے فوجی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی فوج کی آئی کور کا صدر دفتر واشنگٹن میں ہے تاہم لانزا نے کہا کہ ان کی کور کے کئی دستے ہوائی میں اگلی پوزیشنوں پر تعینات ہیں جو کسی حملے کی صورت میں جنوبی کوریا میں موجود امریکی فوجیوں کی مدد کریں گے۔

وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں لانزا نے ایسے نازک حالات سے نمٹنے کے لیے کثیر القومی فوجی مشقوں کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکی فورسز اس خطے میں ہر سالب بھاری ہتھیاروں سے کی جانے والے پیسیفک پاتھ ویز نامی مشقیں کرتی ہیں۔ لانزا نے کہا کہ2017 میں کی جانے والی آئندہ پاتھ ویز مشقوں کے پروگرام میں جو چار علاقے شامل ہیں ان میں جنوبی کوریا بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG