رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کا جنوب کو پمفلٹ بھیجنے پر انتباہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جنوبی کوریا کی تنظیموں کی جانب سے پیانگ یانگ کے خلاف سرحد پار لاکھوں پمفلٹ بھیجے جانے کے کچھ دیر بعد ہی شمالی کوریا کی جانب سے یہ انتباہ جاری کیا گیا۔

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی تنظیموں کی جانب سے اس کے خلاف بھیجے جانے والے پمفلٹ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنے کے حال ہی میں طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔

ایک سرکاری ویب سائیٹ پر بدھ کو کہا گیا کہ ان پمفلٹس کی تقسیم کی وجہ سے بچھڑے ہوئے خاندانوں کی ملاقاتیں اور سیول کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے مذاکرات کا منصوبہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

ویب سائیٹ نے جنوبی کوریا سے ان کی ترسیل بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمیاں دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔

جنوبی کوریا کی تنظیموں کی جانب سے پیانگ یانگ کے خلاف سرحد پار لاکھوں پمفلٹ بھیجے جانے کے کچھ دیر بعد ہی شمالی کوریا کی جانب سے یہ انتباہ جاری کیا گیا۔

منگل کو جنوبی کوریا میں مقیم شمالی کوریا کے ایک منحرف شہری اور سرگرم کارکن لی من بوک نے کہا کہ ان کی تنظیم نے لگ بھگ 12 لاکھ پمفلٹس غباروں کے ساتھ سرحد کے قریب چھوڑے۔

’’چونکہ شمالی کوریا میں ذرائع ابلاغ آزاد نہیں اس لیے یہ پمفلٹ کسی میڈیا ادارے کا سا کام کرتے ہیں۔ غباروں میں ایک ڈالر کے نوٹ، بروشر، اور کورین جنگ اور جنوبی کوریا کے بارے میں معلومات پر مشتمل ڈی وی ڈیز رکھی گئی تھیں۔‘‘

لی نے کہا کہ ان کی تنظیم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سے قطع نظر یہ پمفلٹ بھیجتی رہی ہے۔

ایک اور تنظیم نے 60 غبارے شمالی کوریا بھیجے جن میں نو لاکھ پمفلٹ تھے۔ اس سے قبل شمالی کوریا کے ایک اور منحرف شہری اور سرگرم کارکن پارک سانگ ہک کی تنظیم نے دو لاکھ پمفلٹ سرحد پار بھیجے تھے۔

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور اپنے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ پمفلٹ بھیجنے کی سرگرمیوں کا گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔

جنوبی کوریا کی یونیفیکیشن وزارت کے ترجمان جیونگ جون ہی نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ حکومت شہریوں کی نجی سرگرمیوں میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

’’ہمارا موقف ہے کہ غباروں کے ذریعے پمفلٹس کی تقسیم آزادی اظہار کا ایک عمل ہے جس کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔ اس لیے حکومت بغیر قانونی جواز کے ایسی سرگرمیوں کو زبردستی بند نہیں کر سکتی۔‘‘

جنوبی کوریا دونوں ممالک کے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لیے اگلے ماہ متوقع ایک تقریب کی تیاری کر رہا ہے۔ ایک ہفتہ طویل یہ تقریب شمالی کوریا کے معروف سیاحتی مقام ماؤنٹ کم گینگ میں ہو گی۔

XS
SM
MD
LG