رسائی کے لنکس

شمالی کوریا: ایک تہائی آبادی شدید غذائی قلت کا سامنا

  • سٹیو ہرمن
  • جمیل اختر

اقوام متحدہ نے شمالی کوریا میں خوراک کی بڑھتی ہوئی کمی سے خبردار کیاہے جہاں کی تقریباً ایک تہائی آبادی کو مناسب مقدار میں غذا تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے دو اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے گذشتہ برس کے دوران وہاں خوراک کی پیداوار میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے۔

شمالی کوریا کو اپنی آبادی کا پیٹ بھرنے کے لیے اگلے سال پانچ لاکھ ٹن سے زیادہ اجناس درآمد کرنے کی ضرورت ہوگی۔ دنیا کے اس تنہا ملک اور غریب قوم کے بارے میں یہ تخمینہ اقوام متحدہ کے دو اداروں کے ایک حالیہ مطالعے سے سامنے آیا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کے زیادہ تر لوگوں کو خوراک کی قلت کا مسلسل سامنا رہے گا۔

ان کا کہناہے کہ شمالی کوریا کے دوکروڑ 40 لاکھ افراد کو، جو کل آبادی کا تقریباً ایک تہائی ہیں، اور جنہیں غذائی قلت کا سامنا ہے، بین الاقوامی امداد کے ذریعے ہی مناسب خوارک فراہم کی جاسکتی ہے۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کی ایک مقامی عہدے دار وکٹوریہ سکیٹولیکوکا کہنا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ مخیر ممالک اور ادارے اپنا ذہن تبدیل کریں گے اور ہمارے پروگرام میں معاونت کریں گے تاکہ ہم انسانی مسائل کو سیاسی مسائل سے الگ رکھ سکیں۔

پچھلے چند برسوں میں شمالی کوریا کے لیے بیرونی مدد کی سطح بہت کم رہی ہے۔ پیانگ یانگ پر اس کے جوہری پروگرام کے باعث عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے اس کے لیے خوراک اور ضرورت کی دوسری اشیاء کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام اور ایف اے او کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے 50 لاکھ سے زیادہ ناتواں بچوں، حاملہ خواتین ، ماؤں اور معمر افراد کے لیے بین الاقوامی مدد کی اشد ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے فوڈ سیکیورٹی یونٹ کے سربراہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خوراک کی شدید قلت کے مسئلے سے مؤثر طورپر نہ نمٹا گیا تواس کے مستقبل میں انتہائی منفی اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں۔

ان کا یہ بیان ملک کے زرعی شعبے اور معیشت کی غیر مستحکم صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔

جنوبی کوریانے حال ہی میں 2007ء کے بعد پہلی بار شمالی کوریا کے لیے خوراک کاعطیہ بھیجا ہے۔ لیکن جنوبی کوریا کی سابقہ انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی پانچ لاکھ ٹن سالانہ غذائی امداد کے مقابلے میں یہ عطیہ صرف پانچ ہزار ٹن چاولوں اورنوڈلز کے 30 لاکھ پیکٹوں پر مشتمل ہے۔

جنوبی کوریا کی موجودہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر امداد اس وقت تک بحال نہیں کی جاسکتی جب تک پیانگ یانگ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے دست بردار نہیں ہوجاتا۔

XS
SM
MD
LG