رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کی کاروائیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی: امریکی محکمہٴ خارجہ

  • ڈیوڈ گولسٹ

شمالی کوریا

شمالی کوریا

جنوبی کوریا امریکہ کا اہم حلیف ہے، اور اِس اتحاد کو تقویت دی جائے گی

اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی کاروائیوں پر کڑی نظر رکھیں گے کہ اُن میں بین الاقوامی دہشت گردی کی طرف بڑھنے کے آثار تو نظر نہیں آرہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ جنوبی کوریا کے جنگی جہاز چونان کے ڈبونے کو وہ دہشت گردی کی نہیں بلکہ فوجی کاروائی قرار دیں گے۔اِس حملے میں جنوبی کوریا کے 46ملاح ہلاک ہوگئے تھے۔

26مارچ کو چونان جہاز کے ڈوبنے کے حادثے کے بعد کانگریس ارکان کی طرف سے اوباما انتظامیہ سے کہا جارہا ہے کہ وہ امریکی محکمہٴ خارجہ کی دہشت گردی کی اعانت کرنے والے ملکوں کی فہرست سے شمالی کوریا کو خارج کرنےکے اپنے 2008ء کے فیصلے کو تبدیل کرے۔

اِس فیصلے کا مقصد پیانگ یانگ کی حوصلہ افزائی کرنا تھا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ختم کرنے کے لیے اصولی طور پر طے شدہ سمجھوتے پر عمل درآمد کرے۔

یہ فیصلہ اُن بنیادوں پر کیا گیا تھا کہ 1980ءکی دہائی کے بعد شمالی کوریا کے عالمی دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان ، پی جے کراؤلی نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ شمالی کوریا کو اُس فہرست میں دوبارہ شامل کرنے کے بارے میں مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے۔ لیکن، اُنھوں نے کہا کہ امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ چونان کا ڈوبنا عالمی دہشت گردی کی کاروائی نہیں اور اِس حملے کی بنا پر شمالی کوریا کو اُس فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک اشتعالی کاروائی تھی جو ایک فوج نے دوسری فوج کے خلاف کی ،‘اور ہمارے خیال میں یہ عالمی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی۔’

یہ یقینی طور پر شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان موجودہ جنگی سمجھوتے کی خلاف ورزی تھی اور اِس صورتِ حال پر تبادلہٴ خیال کرنے کے لیے امریکی عہدے دار شمالی کوریا کے عہدے داروں سےملاقات کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ، جنوبی کوریا کی غیر ملکی ماہرین کی شرکت سے کی جانے والی چھان بین کا نتیجہ یہ تھا کہ شمالی کوریا کے ایک ٹارپیڈو نے چونان کو ڈبویا لیکن پیانگ یانگ اِس کی ذمہ داری سے انکار کرتا ہے اور جنگ بندی کمیشن سے ملاقات کے مطالبے کو بھی رد کرتا ہے۔

اِسی حملے کے بعد شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے امریکہ اور جنوبی کوریا نے ہفتےکے روز اِس بات پر اتفاق کیا کہ امریکی عہدے دار جزیرہ نما کوریا پر مشترکہ افواج کی کمان 2015ء تک سنبھالیں گے نہ کہ 2012ء میں اس اتھارٹی کو جنوبی کوریا کے سپرد کیا جائے گا، جیسا کہ ابتدا میں طے کیا گیا تھا۔

صدر براک اوباما نے کینیڈا میں G20سربراہ اجلاس میں وعدہ کیا ہے کہ وہ 2007ء میں امریکہ ، جنوبی کوریا کے درمیان آزاد تجارت کے سمجھوتے کی کانگریس میں منظوری کے لیے اکثرِ نو کوشش کریں گے۔ امریکہ کی لیبر یونینوں اور دوسرے گروپوں کی طرف سے مخالفت کی بنا پر کانگریس میں یہ سمجھوتا تعطل کا شکار ہے۔

اگرچہ اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کانگریس کے خدشات کو کم کرنے میں کسی حد تک کامیابی ہو رہی ہے، صدر اوباما نے کینیڈا میں کہا ہے کہ جنوبی کوریا امریکہ کا اہم حلیف ہے اور اِس اتحاد کو تقویت دینے کے لیے یہ وقت بہتر ہے۔

XS
SM
MD
LG