رسائی کے لنکس

شمالی اور جنوبی کوریا کا بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق


اتوار کے دِن ہونے والی یہ بات چیت 18گھنٹوں تک جاری رہی، جس سے قبل گذشتہ ہفتے شمالی کوریا نے غیر متوقع طور پر پیش کش کی تھی کہ کائسونگ کے صنعتی کمپلیس کو دوبارہ کھولنے کے امکان پر گفتگو کی جائے

شمالی اور جنوبی کوریا کے عہدے داروں کے مابین ہونے والے مذاکرات پیر کے روز صبح سویرے تک جاری رہے، ایسے میں جب دونوں ملکوں کے وفود نے اِسی ہفتے سیئول میں ہونے والے بین الحکومتی اجلاس سے متعلق بنیادی اصول ترتیب دینے کے کام کو مکمل کرنے کی کوشش کی۔

اتوار کے روز ہونے والی یہ ملاقات ’پنمون جوم‘ کے دیہی مضافات میں ہوئی، اور دو برسوں کے دوران ہونے والے اجلاسوں کی اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔

جنوبی کوریا کی وزارت ِاتحاد کے ترجمان، کِم ہیونگ سُک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ طرفین نے اس بات سے اتفاقِ رائے کیا کہ اگلے اجلاس میں دونوں کوریائی ممالک تعطل کے شکار مذاکرات کا پھر سے آغاز کریں گے، اور بٹے ہوئے خاندانوں کے درمیان ملاقاتیں کرائی جائیں گی۔

اتوار کے دِن ہونے والی یہ بات چیت 18گھنٹوں تک جاری رہی، جس سے قبل گذشتہ ہفتے شمالی کوریا نے غیر متوقع طور پر پیش کش کی تھی کہ کائسونگ کے صنعتی کمپلیس کو دوبارہ کھولنے کے امکان پر گفتگو کی جائے۔

اِس کمپلیکس کو مشترکہ طور پر چلایا جاتا ہے، جو سرحد کے شمال میں واقع ہے اور جسے اپریل میں آپس کے بڑھتے ہوئے تناؤ کے نتیجے میں بند کردیا گیا تھا۔

شمالی کوریا نے اُس تجویز کی مخالفت کی جِس میں شمال میں واقع ماؤنٹ کُم گینگ کے صحت افزا مقام کی طرف سیاحوں کی آمد و رفت کے لیے سرحدین کھولنے کی اجازت پر غور کرنا مقصود تھا۔

اِس سلسلے کو جنوبی کوریا نے 2008ء میں اُس وقت بند کردیا تھا، جب شمالی کوریا کی فوج کی طرف سے جنوبی کوریا کے ایک سیاح کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG