رسائی کے لنکس

شمالی اور جنوبی کوریا کے بچھڑے خاندانوں کے معاملے پر بات چیت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس اجلاس میں اس بارے میں غور کیا جا رہا ہے کہ بچھڑے خاندانوں کو ملانے کا تازہ ترین دور کب اور کہاں ہو گا جو آخری بار فروری 2014 میں ہوا تھا۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے نمائندوں نے پیر کو ان خاندانوں کو آپس میں ملانے کے متعلق بات چیت شروع کی جو کوریائی جنگ کی وجہ سے گزشتہ 60 سالوں سے بچھڑے ہوئے ہیں۔

سیول اور پیانگ ینگ سے ریڈ کراس کے نمائندے پان من جوم کے سرحدی گاؤں میں ہونے والی اس بات چیت میں شریک ہیں۔

اس اجلاس میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ بچھڑے خاندانوں کو ملانے کا تازہ ترین دور کب اور کہاں ہو گا جو آخری بار فروری 2014 میں ہوا تھا۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ دور اکتوبر میں شمالی کوریا کے صحت افزا مقام ماؤنٹ کم گانگ میں ہو سکتا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں 2014 میں ایسی ہی تقریب ہوئی تھی۔

1950 اور 1953 کے درمیان لڑی جانے والی جنگ کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا کمیونسٹ شمالی کوریا اور ڈیموکریٹک جنوبی کوریا میں تقسیم ہو گیا تھا جس کی وجہ سے لاکھوں کوریائی باشندے ایک دوسرے سےجدا ہو گئے تھے۔ ان خاندانوں کی کئی عشروں تک ایک دوسرے سے ملاقات نہ ہو سکی۔

پہلی بار بچھڑے خاندانوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ 2000 میں ہونے والے سربراہ مذاکرات کے بعد شروع ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ ملاقاتیں سالانہ بنیادوں پر شروع ہوئیں۔ تاہم سرحدوں پر تناؤ کی وجہ سے ان میں کمی کر دی گئی۔

ان ملاقاتوں میں حصہ لینے والے افراد میں اکثر کی عمریں 70 اور 80 سال سے زیادہ ہیں اور یہ ملاقاتیں ایک طویل عرصے سے بچھڑے اپنے پیاروں سے ملنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کی حکومتیں نے سرحد کے آر پار خطوں کے تبادلے، فون کال اور ای میل پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

جنوبی کوریا کے تقریباً 66,000 شہریوں نے اس ملاقات میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی ہے۔ تاہم ہر بار صرف چند سو افراد کو ہی منتخب کیا جاتا ہے۔

پیر کو ہونے والا اجلاس گزشتہ ماہ دونوں ملکوں کے درمیان سمجھوتے کے بعد عمل میں آیا ہے۔ اس سمجھوتے سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملی ہے جو انہیں جنگ کے دہانے پر لے آئی تھی۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے آئندہ ماہ حکمران جماعت ورکرز پارٹی کے سترویں یوم تاسیس کے موقع پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا تو کشیدگی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG