رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: فضائی کارروائیوں میں 23 'شدت پسند' ہلاک


ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے پاکستان نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فورسز کی فضائی کارروائیوں میں مزید 23 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق شوال کے علاقے میں جیٹ طیاروں کی مدد سے کی جانے والی کارروائی میں شدت پسندوں کے چار ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا۔

شمالی وزیرستان میں القاعدہ سے منسلک طالبان شدت پسندوں کا گڑھ تصور کیا جاتا رہا ہے جہاں ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں نے اپنی محفوظ پناہ گاہیں قائم کر رکھی تھیں۔

لیکن گزشتہ جون کے وسط سے پاکستانی فوج نے یہاں ضرب عضب کے نام سے ایک بھرپور کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک حکام کے بقول 1200 سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے جن میں متعدد غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

فوجی کارروائی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں، ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور بھاری مقدار میں اسلحے کے ذخیروں کو بھی تباہ کیا جاچکا ہے۔

گزشتہ ماہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

ضرب عضب کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال اکتوبر میں ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی "خیبر ون" کے نام سے کارروائی شروع کی گئی جس میں حکام کے بقول اب تک درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ متعدد نے ہتھیار ڈال کر خود کو حکام کے حوالے بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG