رسائی کے لنکس

پاکستان میں ڈرون حملہ: غیر ملکیوں سمیت کم از کم آٹھ شدت پسند ہلاک

  • شمیم شاہد

شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے قصبے مہر علی کے نواحی گاؤں مُسکی میں پیر کی شام بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیارے کے ذریعے ہونے والے میزائل حملے کا نشانہ عسکریت پسندوں کا ایک مرکز تھا۔

شیر ملا خان نامی قبائل کے گھر قائم عسکریت پسندوں کے اِس مرکز پر دو میزائل داغنے سےموجود شدت پسندوں میں سے بیشتر موقعے پر ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کی فوری طور پر شناخت نہ ہوسکی۔ تاہم، اُن کاتعلق مختلف مغربی اور وسط ایشیائی ممالک سے بتایا جاتا ہے۔

گھر کے مالک شیر ملا خان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُن کو چار مہینے قبل وزیرستان سے ملحقہ بنوں شہر میں گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کو نامعلوم سمت لے جارہا تھا۔شیر ملا کے گھر میں مارے جانے والوں میں سے اکثریت کا تعلق بھی جرمنی سے بتایا جاتا ہے۔

مہر علی قصبے کے نواحی گاؤں، مُسکی میں غیر ملکی شدت پسند گذشتہ کئی سالوں سے رہائش پذیر ہیں۔تین دسمبر 2005ء کو اِسی گاؤں کے ایک اور گھر پر مبینہ امریکی میزائل حملےمیں القائدہ کا رہنما ابو حمزہ ربی بھی ہلاک ہوا تھا۔

شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں القاعدہ اور دیگر ملکی اور غیر ملکی شدت پسند تنظیموں سے وابستہ ہزاروں جنگجو مقیم ہیں اور یہ جنگجو، امریکی اور افغان حکام کے بقول، سرحد پار افغانستان میں اتحادی افواج پر ہلاکت خیز حملوں میں ملوث تھے۔

رواں ماہ کے دوران شمالی وزیرستان میں یہ دوسرا بڑا امریکی میزائل حملہ ہے۔ دو دِن قبل ایک ہی گاؤں کے مختلف علاقوں میں تین میزائل حملوں میں ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG