رسائی کے لنکس

ڈانڈے درپہ خیل کے بے گھر افراد کا احتجاجی مظاہرہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل سے تعلق رکھنے والے بے گھر افراد نے اپنے گھروں کو واپسی میں تاخیر پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں ماہ رمضان سے قبل اپنے علاقوں کو واپس بھیجا جائے۔

تین سال قبل شدت پسندوں کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن کے وقت لاکھوں قبائلی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تھے اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کا صفایا کیے جانے کے بعد 80 فیصد کے لگ بھگ قبائلی واپس جا چکے ہیں۔

لیکن ڈانڈے درپہ خیل سے تعلق رکھنے والے قبائلی ابھی تک بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبرپختونخواہ کے دیگر علاقوں میں مقیم ہیں اور حکام کی طرف سے ان کی واپسی کا عمل شروع نہیں کیا گیا ہے۔

ان قبائلیوں نے منگل کو بنوں میں پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی راہنما ملک غلام خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ڈانڈے درپہ خیل کا علاقہ تو میران شاہ کے قریب واقع ہے جہاں سکیورٹی فورسز نے اپنے اڈے بھی قائم کر رکھے ہیں لہذا یہ علاقہ تو زیادہ محفوظ ہونا چاہیے۔

"یہ لوگ بہت پریشان ہیں یہاں بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں گرمی بھی بہت ہے انھیں یہاں تکلیف ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں رمضان سے پہلے واپس بھیجیں۔ ان لوگوں کو واپسی کا ٹوکن بھی دیا جا چکا ہے واپس نہ بھیجنے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جاتی۔"

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ تین روز تک اپنا احتجاجی کیمپ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حکام کا موقف ہے کہ جن علاقوں میں سلامتی کے صورتحال بہتر اور تعمیر نو کا کام مکمل ہو چکا ہے صرف ان ہی علاقوں میں لوگوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے اور صرف وہی ابھی شمالی وزیرستان واپس نہیں بھیجے گئے جن کے علاقوں میں ان کی آبادکاری کی تیاری مکمل نہیں۔

XS
SM
MD
LG