رسائی کے لنکس

ناروے حملوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرے گا


ملزم بریوک کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے

ملزم بریوک کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے

یورپی یونین اور ناروے سے تعلق رکھنے والے انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین جمعرات کو برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں گزشتہ ہفتے اوسلو میں ہونے والے حملوں جیسے دہشت گردی کے واقعات کے سدِ باب کے طریقوں پر غور کیاجائے گا۔

اس سے قبل بدھ کو ناروے کی پولیس کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اس بات کا قومی امکان ہے کہ اوسلو حملوں کے مشتبہ ملزم آندرے بیرنگ بریوک نے تمام کارروائی تنہا انجام دی تھی اور اس کا کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلق نہیں۔ ان حملوں میں 76 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ملزم کا دعویٰ ہے کہ وہ یورپ میں مسلمانوں کی آبادکاری اور بڑھتے ہوئے ثقافتی تنوع کے خلاف ایک وسیع تر "صلیبی جنگ" کا حصہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ملزم کے اس دعوے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

بدھ کو ناروے کے وزیرِاعظم جینز اسٹالٹن برگ کی جانب سے ملک کے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کا آزادانہ تجزیہ کرانے کا اعلان بھی سامنے آیا تھا۔

وزیرِاعظم کا یہ بیان ذرائع ابلاغ میں ہونے والی اس تنقید کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں پولیس پر یٹویا جزیرے پر ہونے والے فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ پر تاخیر سے پہنچنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جہاں حملے کے وقت حکمران لیبر پارٹی کے جاری ایک کیمپ میں سینکڑوں نوجوان شریک تھے۔

یٹویا کا جزیرہ دارالحکومت اوسلو سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ملزم بریوک اوسلو میں کار بم دھماکا کرنے کے فوری بعد یٹویا پہنچا تھا جہاں اس نے حکمران جماعت کے کیمپ کے شرکاء پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 68 افراد کو قتل کردیا تھا۔ اوسلو میں ہونے والے بم دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ وزیرِاعظم کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

فائرنگ کے بعد سب سے پہلے یٹویا پہنچنے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک افسر نے بتایا تھا کہ اہلکاروں کی جانب سے خبردار کرنے کے فوری بعد ہی حملہ آور نے اپنے ہاتھ بلند کرکے خود کو بغیر کسی مزاحمت کے ان کے حوالے کردیا تھا۔

حملے کی اطلاع پہنچنے کے فوری بعد پولیس کے خصوصی دستوں کو کشتیوں کے ذریعے اوسلو سے یٹویا روانہ کیا گیا تھا کیونکہ حکام کے بقول ہیلی کاپٹر کے ذریعے اہلکار روانہ کرنے میں تاخیر کا امکان تھا۔ تاہم اہلکاروں کو لے جانے والی پہلی کشتی ٹوٹ گئی تھی۔

بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم اسٹالٹن برگ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ان حملوں سے خوف زدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ ناروے مزید جمہوریت پسند اور آزاد معاشرہ بن کر ابھرے گا جہاں سیاست میں عوامی شرکت میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی پر مشتمل سیاسی نظریات رکھنا ناروے کے معاشرے میں قابلِ قبول ہے تاہم ان پر عمل درآمد کے لیے پرتشدد راستے کے انتخاب کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

ملزم بریوک کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ اوسلو کی ایک مقامی عدالت نے پیر کو مقدمہ کی ابتدائی سماعت کے بعد ملزم کو آٹھ ہفتوں تک قید میں رکھنے کا حکم دیا ہے جس کے دوران اس سے تفتیش کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG