رسائی کے لنکس

پناہ کے متلاشی متعدد پاکستانی ناروے بدر


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیان میں بتایا گیا کہ ان میں اسے اکثریت ناروے کی روس سے ملحقہ سرحد عبور کر کے گزشتہ ماہ یہاں آئی تھی اور جلد ہی بہت سوں کو ان کے ملک یا پھر روس واپس بھیج دیا جائے گا۔

ناروے نے اپنے ملک میں پناہ کے لیے آنے والے درجنوں پاکستانیوں کو اس بنا پر ملک بدر کر دیا ہے کہ ان کی درخواستیں پناہ کے متلاشیوں کے لیے وضع کردہ قواعد اور معیار پر پورا نہیں اترتیں۔

اسلام آباد میں ناروے کے سفارتخانے کے مطابق سفیر ٹورے ندریبو نے بتایا کہ 400 سے زائد پاکستانیوں نے پناہ کے لیے درخواست دی تھی جن میں سے متعدد کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔

"بہت سے پاکستانی واپس پہنچ چکے ہیں کیونکہ ان کی درخواستیں بلاشبہ اس معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔"

بیان میں بتایا گیا کہ ان میں اسے اکثریت ناروے کی روس سے ملحقہ سرحد عبور کر کے گزشتہ ماہ یہاں آئی تھی اور جلد ہی بہت سوں کو ان کے ملک یا پھر روس واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس اقدام کی وجہ ناروے کی حکومت کی طرف سے پناہ گزینوں کے لیے متعارف کروائے گئے نئے سخت قوانین ہیں۔

ناروے کے حکام کا کہنا ہے کہ سرحد عبور کرنے والی تازہ اکثریت ان لوگوں کی ہے جو کہ خانہ جنگی یا پھر ایذا رسانیوں کی وجہ سے فرار ہو کر یہاں نہیں پہنچے۔

ادھر پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ خبر کے مطابق ناروے سے ملک بدر کیے گئے لگ بھگ 30 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

دیگر یورپی ملکوں کی طرح تارکین وطن اور پناہ کی تلاش کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ناروے کا بھی رخ کیا تھا۔ حکام کے بقول رواں سال ناروے میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد 30 سے 40 ہزار تک ہو گی۔

ناروے کی طرف سے متعارف کروائے گئے نئے قانون کے مطابق حکام ایسے کسی شخص کی درخواست کو قبول نہیں کریں گے جو پہلے ہی کسی تیسرے محفوظ ملک کا رہائشی ہو۔ سفیر ندریبو کے مطابق "ناروے روس کو محفوظ ملک تصور کرتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے لیے بین الاقوامی میثاق کے تحت وہی شخص پناہ کی درخواست دینے کا اہل ہے جسے انتہائی تحفظ کی ضرورت ہو۔

سفیر کے بقول جو لوگ رضاکارانہ طور پر واپس نہیں جائیں گے انھیں زبردستی ملک بدر کر دیا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ ہی پاکستان نے یورپی یونین سے بغیر وجہ بتائے ملک بدر کرنے والے پاکستانیوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس بارے میں یورپی یونین سے معاہدہ معطل کر دیا تھا۔

رواں ہفتے کے اوائل میں یورپی یونین کے کمشنر برائے مائیگریشن نے اسلام آباد آکر یہاں اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔

کمشنر دمیترس اوراموپالس کا کہنا تھا کہ انھیں پاکستان کے تحفظات کا احساس ہے اور وہ مل بیٹھ کر انھیں دور کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 2009 میں غیر قانونی تارکین وطن کو پاکستان واپس بھیجنے سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپ سے دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کیے گئے کسی پاکستانی کو بغیر ثبوت کے قبول نہیں کرے گا۔

ان کے بقول وہ یورپی یونین کی پاکستان کے بارے میں پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن تارکین وطن کے معاملے پر ان سے متفق نہیں۔

XS
SM
MD
LG