رسائی کے لنکس

ناروے کا مغوی شہری داعش کی تحویل میں


ناروے کی وزیراعظم (فائل فوٹو)

ناروے کی وزیراعظم (فائل فوٹو)

ناروے کی وزیراعظم نے یرغمال بنائے جانے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا مگر کہا کہ اس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہے اور وہ پکڑے جانے کے بعد متعدد گروپوں کی تحویل میں رہا ہے۔

ناروے کی وزیراعظم نے کہا ہے کہ جنوری میں یرغمال بنائے جانے والے ناروے کے ایک شہری کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اب داعش کی تحویل میں ہے۔

وزیر اعظم ایرنا سولبرگ نے کہا کہ وہ اس گروہ کے تاوان کے مطالبے کو نہیں مانیں گی۔

’’ہمارا مقصد ہے کہ ہم اپنے شہری کو واپس گھر لائیں۔ مگر میں یہ واضح کر دوں کہ یہ ایک بہت مشکل کیس ہے۔‘‘

انہوں نے یرغمال بنائے جانے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا مگر کہا کہ اس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہے اور وہ پکڑے جانے کے بعد متعدد گروپوں کی تحویل میں رہا ہے۔

’’حکومت اس مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ہم دہشتگردوں اور مجرموں کے دباؤ میں نہیں آ سکتے اور نہ آئیں گے۔ ناروے تاوان کی ادائیگی نہیں کرتا۔ ہم ان بد خو دہشتگردوں سے مذاکرات میں اپنے اصول سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ تاوان کی ادائیگی سے ناروے کے دیگر شہریوں کے یرغمال بنائے جانے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

سولبرگ نے نیوز کانفرنس میں نامہ نگاروں کو سوال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ بحران سے نمٹنے والا ایک سرکاری گروپ اس کیس پر کام کر رہا ہے۔

داعش کے آن لائن میگزین ’دابق‘ سے وابستگی کا دعویٰ کرنے والی ایک ویب سائٹ نے دو افراد کی تصویریں شائع کی تھیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ان میں سے ایک چین اور ایک ناروے کا شہری ہے مگر ان کی حکومتوں نے ان دونوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔

ویب سائٹ پر کہا گیا کہ تاوان کی ادائیگی ان دونوں کو رہائی دلا سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG