رسائی کے لنکس

اے نیر فلمی گیتوں کے ساتھ ساتھ ٹی وی کے لئے بھی گاتے رہے۔ ٹی وی کی بدولت ہی انہیں پاکستان کا تقریباً ہر فرد جانتا ہے۔ ان کی آواز کی دنیا کے لئے انجام دی جانے والی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

پاکستان کے مایہ ناز پلے بیک سنگر اے نیر لاہور میں انتقال کرگئے۔ان کی عمر 66 سال تھی۔ انہیں دل کا عارضہ لاحق تھا اور اسی کے سبب وہ کئی سال سے بیمار تھے۔

پاکستانی صدر ممنون حسین نے ان کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

اے نیر فلمی گیتوں کے ساتھ ساتھ ٹی وی کے لئے بھی گاتے رہے۔ ٹی وی کی بدولت ہی انہیں پاکستان کا تقریباً ہر فرد جانتا ہے۔ ان کی آواز کی دنیا کے لئے انجام دی جانے والی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اے نیر نے پہلی مرتبہ 1974 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بہشت‘ کے لئے گایا تھا۔ اس کے بعد تو انہوں نے درجنوں فلمی گیتوں کو اپنی آواز دی اور انہیں ناقابل فراموش بنا دیا جیسے’ایک بات کہوں دلدارہ۔۔تیرے عشق نے ہم کو مارا‘، ’یاد رکھنے کو کچھ نہ رہا‘، ’یوں ہی دن کٹ جائیں گے‘، اور ’جنگل میں منگل تیرے ہی دم سے‘۔

اس دور میں گائیکی کی دنیا میں دو ہی نام سب کی زبان پر تھے۔ ایک نیر اور دوسرے اخلاق احمد۔ پلے بیک سنگنگ میں ان دونوں کے پاکستان کا نام خوب روشن کیا۔

اچھی آواز کی بدولت ہی اے نیر کو نگار ایوارڈ سے بھی نواز جاچکا ہے۔ انہیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر تھا اور اس کا اظہار انہوں نے اپنے متعدد انٹرویوز میں بھی کیا۔

اگرچہ وہ یہ شکوہ بھی کیا کرتے تھے کہ پاکستانی چینلز نے انہیں فراموش کردیا ہے، لیکن اس کے باوجود، وہ بھی بھارت جا کر گانے پر آمادہ نہیں ہوئے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG