رسائی کے لنکس

پولیس کے مطابق 35 سالہ شبانہ گھر سے یہ کہہ کر نکلی کہ وہ اپنے میکے جا رہی ہے، لیکن اُس نے دریائے کابل میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع نوشہرہ میں ایک خاتون نے غربت اور مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ظلم سے تنگ آ کر تین بیٹیوں کے ساتھ خودکشی کر لی۔

نوشہرہ کلاں پولیس تھانے کے انسپکٹر نہار علی خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 35 سالہ شبانہ جمعہ کو اپنی تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ہمراہ گھر سے یہ کہہ کر نکلی کہ وہ اپنے میکے جا رہی ہے۔

لیکن اُس نے دریائے کابل پر پیر سباق نامی پل سے اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی جب کہ اس دوران اُس کا نو سالہ بیٹا حسن ڈر کر وہاں سے بھاگ نکلا۔

شبانہ کی تین بیٹوں کی عمریں ڈیڑھ سال، چار سال اور 12 سال بتائی جاتی ہیں۔

انسپکٹر نہار خان نے بتایا کہ شبانہ کا شوہر رکشہ چلاتا ہے اور اُن کو بدترین معاشی مشکلات کا سامنا تھا جب کہ خودکشی کرنے والی خاتون کا شوہر اُس پر تشدد بھی کرتا تھا۔

شبانہ بھی گزر اوقات کے لیے کپڑے سلائی کرتی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق جس روز شبانہ اپنے گھر سے نکلی اُس روز بھی اُسے مارا پیٹا گیا۔

نوشہرہ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق غوطہ خوروں اور کشتیوں کی مدد سے خاتون اور اُس کی تین بیٹوں کی لاشوں کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال اس میں کامیابی نہیں ملی۔

مقامی لوگوں کے مطابق دریائے کابل میں پانی کا بہاؤ خاصہ تیز ہے۔

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور تنگ دستی کے باعث اس سے قبل بھی خودکشیوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG