رسائی کے لنکس

امریکہ: اسکولوں میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا مطالبہ


امریکہ کی 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن' کے ایگزیکٹو نائب صدر کی پریس کانفرنس کے دوران میں ایک شخص احتجاجی بینر لہرا رہا ہے

امریکہ کی 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن' کے ایگزیکٹو نائب صدر کی پریس کانفرنس کے دوران میں ایک شخص احتجاجی بینر لہرا رہا ہے

'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن' کے امریکہ بھر میں 43 لاکھ ارکان ہیں اور یہ تنظیم امریکہ میں شہریوں کو حاصل ہتھیار رکھنے کے حق کی سب سے بڑی محافظ اور حامی سمجھی جاتی ہے۔

امریکہ میں عام شہریوں کے ہتھیارر کھنے کے حق کی حامی سب سے بڑی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے ملک کے ہر اسکول میں پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی ریاست کنیٹی کٹ کے ایک اسکول میں ایک شخص کی فائرنگ سے 26 طلبہ اور اساتذہ کی ہلاکت کے واقعے کے بعد 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن' کے عہدیداران نے جمعے کو پہلی بار اس موضوع پر لب کشائی کی ہے۔

واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں تنظیم کے مرکزی عہدیدار وین لاپیئر کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات کو روکنے کا واحد راستہ وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مسلح اہلکاروں کی تعیناتی ہے۔

وین لاپیئر نے اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات کی ذمہ داری پرتشدد ویڈیو گیمز، فلموں اور میوزک ویڈیوز پر عائد کی جو ان کے بقول بچوں میں تشدد کا رجحان پروان چڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ریاست آرکنساس سے منتخب ہونےو الے ایوانِ نمائندگان کے سابق ری پبلکن رکن ایسا ہیچی سن 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن' کے اس منصوبے کی سربراہی کریں گے جو مسلح محافظ رکھنے والے اسکولوں کے لیے ایک 'ماڈل سیکیورٹی پلان' وضع کرے گا۔

مسٹر لاپیئر نے پریس کانفرنس میں صرف خطاب پر ہی اکتفا کیا اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔ گو کہ پریس کانفرنس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود دو مظاہرین نے وقفے وقفے سے لاپیئر کے خطاب کے دوران میں مداخلت کی اور بآوازِ بلند ان کی تنظیم کو بچوں کے قتل کا ذمہ دار ٹہرایا۔

بعد ازاں سیکیورٹی اہلکار دونوں مظاہرین کو کانفرنس ہال سے زبردستی باہر لے گئے۔

واضح رہے کہ 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن' کے امریکہ بھر میں 43 لاکھ ارکان ہیں اور یہ تنظیم امریکہ میں شہریوں کو حاصل ہتھیار رکھنے کے حق کی سب سے بڑی محافظ اور حامی سمجھی جاتی ہے۔

گزشتہ ہفتے کنیٹی کٹ میں پیش آنے والے سانحے کے بعد امریکہ میں ایک بار پھر چھوٹے ہتھیاروں پر کنٹرول کی بحث زور پکڑ گئی ہے اور صدر براک اوباما نے بھی کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں فوری اقدامات کرے۔

ہتھیاروں پر کنٹرول کا مطالبہ کرنے والے حلقے 'این آر اے' کو اس ضمن میں قانون سازی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اس پر کڑی تنقید کرتے آئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG