رسائی کے لنکس

حکومت اور عدلیہ کے درمیان تصادم کا کوئی امکان نہیں

  • حسن سید

حکومت اور عدلیہ کے درمیان تصادم کا کوئی امکان نہیں

حکومت اور عدلیہ کے درمیان تصادم کا کوئی امکان نہیں

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے این آراو کے معاملے پر حکومت اور عدلیہ کے درمیان تصادم کو خارج از مکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہی ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔

منگل کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت نے این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور وزیر اعظم پہلے ہی اس پر عمل درآمد کے احکامات جاری کر چکے ہیں۔

حکومت کی طرف سے این آراو پر کورٹ کے فیصلے کا نفاذ نہ کروانے کے خلاف وکلاء برادری کی طرف سے 28 جنوری کو ملک گیر احتجاج کے انتباہ کے بارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس قسم کے جذباتی اقدامات اور طاقت کے مظاہروں سے اجتناب کیا جانا چاہیئے کیونکہ قمر زمان کائرہ کے مطابق ایسی کارروائیوں سے مثبت نتائج برآمد ہونے کے بجائے معاشرے میں کشیدگی بڑھتی ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں، تجزیہ نگاروں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی طرف سے حکومت پر یہ دباؤ ہے کہ وہ این آر او پر کورٹ کے فیصلے کو نافذ کرے اور ملک میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ اگر حکومت این آر او سے متعلق فیصلے کو نافذ نہیں کرتی تو عدلیہ اورمقننہ کے درمیان تصادم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں جس سے ملک میں ایک نیا سیاسی بحران جنم لے گا۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں گیلپ انٹرنیشنل سے منسلک گیلانی فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے کہا کہ بلا امتیاز احتساب پاکستان کی عوام کی ایک پر زور مانگ ہے اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ جمہوری روایات کا پاس کرتے ہوئے این آر او کے خلاف فیصلے کا نفاذ کرے۔

ماہر قانون اور سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل ڈاکٹر پرویز حسن کہتے ہیں کہ فی الحال حکومت کے رویے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ این آر او پر فیصلے کے نفاذ میں سنجیدہ نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ عدالت کی آزادی اور خود مختاری کے احترام کی بات کرتی آئی ہے۔

تاہم ان کی رائے میں دونوں اداروں کے درمیان کسی تصادم کے ممکنات کیا ہیں اس بارے میں آئندہ کچھ روز” فیصلہ کن “ ثابت ہوں گے۔ ڈاکٹر حسن کے مطابق وکلاء کی طرف سے کسی احتجاج کی تیاری کرنا اس موقع پر قبل از وقت ہے۔

نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر حاصل بزنجو کے مطابق احتساب یا محاسبہ یقینا ضروری ہے لیکن ان کی رائے میں سپریم کورٹ این آراو کے معاملے پر جس ’’غیر معمولی سرگرمی“ کا مظاہرہ کر رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ اپنی طے کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مقننہ کے ساتھ تصادم کی راہ پر گامزن ہے۔

پاکستان میں سیاسی مبصرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملک میں موجود نوزائیدہ جمہوری نظام کو تحفظ دینے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے قانون کی بالادستی اور ایک آزاد عدلیہ ناگزیر ہے۔ اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بقاء کا انحصار این آراو کے خلا ف سپریم کورٹ کے فیصلے کے نفاذ پر ہے۔

XS
SM
MD
LG