رسائی کے لنکس

حکومت کو ٹیلی فون ریکارڈ تک رسائی ملنی چاہیئے: سائبر کمانڈ


فائل

فائل

صدر اوباما نے تجویز دی ہے کہ اب حکومت ٹیلی فون ریکارڈ اکٹھا نہ کرے، بلکہ یہ ریکارڈ نجی ٹیلی فون ادارے اپنے ہی پاس رکھیں۔ اور، خصوصی عدالت کی جانب سے احکامات کی صورت میں، حکومت کو اختیار ہو کہ ذاتی ٹیلی فون نمبروں تک رسائی ملے

امریکی سائبر کمانڈ کے سربراہ، ایڈمرل مائیکل راجرز نے، جو نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر بھی ہیں، پیر کے روز کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے ’این ایس اے‘ کی جانب سے ٹیلی فون پر جانے والی نظرداری سے متعلق عدالتی فیصلے میں، بقول اُن کے، واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شہریوں کی نجی زندگی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری اس بات کی ہے کہ ’بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کوئی طریقہ کار‘ وضع کیا جائے۔

ایک وفاقی اپیلز کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ ’پیٹریاٹ ایکٹ‘ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو ٹیلی فون کا بہت بڑا ریکارڈ جمع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔


صدر اوباما نے تجویز دی ہے کہ اب حکومت ٹیلی فون ریکارڈ اکٹھا نہ کرے، بلکہ یہ ریکارڈ نجی ٹیلی فون ادارے اپنے ہی پاس رکھیں۔ اور، خصوصی عدالت کی جانب سے احکامات کی صورت میں، حکومت کو اختیار ہو کہ ذاتی ٹیلی فون نمبروں تک رسائی ملے۔

راجرز نے کہا کہ اب اطلاعات ایک ہتھیار کی صورت اختیار کرنے لگے ہیں، جو زندگی کے لیے نقصاندہ بات ہے، یہی وجہ ہے کہ حقوق اور تحفظ کا توازن برتنا آسان کام نہیں رہا۔

تاہم، سینیٹ کے اکثریتی قائد، مِچ مکونیل نے گذشتہ ماہ ایوان میں ایک بِل پیش کیا تھا جس میں پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت نظرداری سے متعلق متنازع ادارے کو 2020ء تک وسعت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ بِل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جائزہ لیتے رہنے سے ممکنہ دہشت گردی کی حرکات کا بروقت پتا لگ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG