رسائی کے لنکس

خفیہ نگرانی: غیرملکیوں سے عام امریکیوں کی تعداد زیادہ


فائل

فائل

واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہےکہ 50 سے زائد فرضی انٹرنیٹ اکاؤنٹس کی مہینوں تک نگرانی کی گئی، جن کے نتیجے میں 2011ء میں براہ راست اشارہ ملنے پر پاکستان میں رہنے والا بم تیار کرنے والا ملزم، محمد طاہر شہزاد ایبٹ آباد سے پکڑا گیا

امریکہ کے ایک اہم اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چار برس کے عرصے تک نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) نے غیر ملکیوں کے آن لائن اکاؤنٹس کو قانونی طور پر ہدف بنایا۔ ادارے نے انٹرنیٹ کے عام صارفین کی تعداد سے نو گنا زیادہ افراد کا ٹیلی فون پر گفتگو کا ریکارڈ حاصل کیا، جن میں امریکی اور غیر امریکی دونوں شامل ہیں۔

’دِی واشنگٹن پوسٹ‘ نے ہفتے کی رات گئے اپنی ویب سائٹ پر چھپنے والی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ نگرانی کی فائلوں کے تقریباً نصف حصے میں نام، اِی میل ایڈریس یا دیگر تفصیل درج ہیں، جنھیں این ایس اے نے امریکی شہریوں یا مقیم لوگوں کی فائلیں ظاہر کیا۔

پوسٹ کو دستاویزات کی ایک بڑی تعداد ’این ایس اے‘ کے سابق تجزیہ کار، ایڈورڈ سنوڈن نے فراہم کی تھی، جو امریکہ سے بھاگ کر اب روس میں مقیم ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ گفتگو کے ان پیغامات میں مبینہ طور پر انٹیلی جنس نوعیت کی خاصی کہانیاں تھیں، جن میں بیرون ملک پوشیدہ ایک نیوکیئر پراجیکٹ کے بارے میں انکشافات، اعتبار کے قابل ایک اتحادی کی خیانت، ایک غیر دوستانہ ملک کی فوجی مشکلات، امریکی کمپیوٹر نیٹ ورکس پے حملہ آور ہونے والے افراد کی شناخت شامل ہیں۔

اخبار نے کہا ہےکہ اِن فائلوں سے پتا چلا کہ 50 سے زائد فرضی انٹرنیٹ اکاؤنٹس کو مہینوں تک نگرانی میں رکھا گیا، جن سے 2011ء میں براہ راست اشارہ ملنے کے بعد پاکستان میں رہنے والا بم تیار کرنے والا ملزم، محمد طاہر شہزاد ایبٹ آباد سے پکڑا گیا۔

تاہم، ’دِی واشنگٹن پوسٹ‘ نے رپورٹ دی ہے کہ این ایس اے کی طرف سے بیکار قرار دی جانے والی دیگر فائلوں کو اپنے پاس رکھا گیا۔ اخبار کے بقول، اِن فائلوں میں ذاتی تعلقات کی نوعیت کی کہانیاں درج ہیں جن میں محبت، دل ٹوٹنے اور غیر قانونی جنسی مراسم، ذہنی صحت کا بحران، سیاسی و مذہبی تبدیلیاں، مالی مشکلات اور مایوسیوں کی کہانیاں شامل ہیں۔

اخبار میں کہا گیا ہے کہ 10000سے زائد اکاؤنٹ ہولڈر کو ہدف نہیں بنایا گیا، تاہم اُن کا کیٹلاگ میں نام ضرور موجود ہے۔

واشنگٹن کے اہل کاروں نے فوری طور پر اِس رپورٹ کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

XS
SM
MD
LG