رسائی کے لنکس

محکمہٴخارجہ میں ’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندےنے بتایا ہے کہ امریکی سفارتی سرگرمیوں سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اوباما انتظامیہ، کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے، اپنے اُن اتحادیوں کو تیار کر رہی ہے، خصوصی طور پر ترکی اور سعودی عرب، جنھیں ایران کے جوہری عزائم پر تشویش ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری جمعے کی رات گئے ویانا میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کرنے والے ہیں، ایسے میں جب ایران کے جوہری پروگرام پر مربوط سمجھوتے کی فیصلہ کُن ڈیڈلائن قریب ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سابقہ سربراہ، کیتھرین ایشٹن بھی اِس ملاقات میں شریک ہوں گی۔

معاہدہ طے کرنے کی حتمی تاریخ پیر کو ختم ہونے والی ہے، اور کیری نے جمعرات کے روز بتایا کہ اس میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ، فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں شامل فریق کے مابین اب بھی ’کافی دوری‘ حائل ہے۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایران لچک دکھاتا ہے تو بین الاقوامی ٹیم بھی اُسی انداز سے پیش آئے گی۔

محکمہٴخارجہ میں ’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے، اسکوٹ اسٹیئرنس نے بتایا ہے کہ امریکی سفارتی سرگرمیاں یہ عندیہ دیتی ہیں کہ اوباما انتظامیہ، کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے، اپنے اُن اتحادیوں کو تیار کر رہی ہے، خصوصی طور پر ترکی اور سعودی عرب، جنھیں ایران کے جوہری عزائم پر تشویش ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن جمعے کو بات چیت کے لیے ترکی کا دروہ کریں گے؛ جب کہ کیری نے جمعرات کو فرانس اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو زیر غور لانا ہے۔ اِس سے قبل، صدر اوباما اِسی ہفتے، واشنگٹن میں سعودی وزیر برائے قومی تحفظ سے ملاقات کر چکے ہیں۔

ایک سال کے عرصے سے، ایران اور چھ عالمی طاقتیں۔۔ امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی۔۔ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں تعزیرات میں نرمی برتنے کے عوض ایران اپنے جوہری پرگرام کی سطح میں کمی لائے۔

XS
SM
MD
LG