رسائی کے لنکس

جوہری ’وارہیڈ‘ کی تصدیق، جدید طریقہ کار کی جستجو


فائل

فائل

جو طریقہ کار اپنایا جائے گا وہ یہ ہوگا کہ ’ہائی انرجی نیوٹرونز‘ کو جوہری ہتھیار سے گزارا جائے،اور یہ نوٹ کیا جائے کہ ’ڈٹیکٹرز‘کے دوسری طرف کتنے نیوٹرونز پہنچتے ہیں

سائنس داں ایک نئی تیکنیک وجود میں لانے کی جستجو کر رہے ہیں، جس سے تخفیف اسلحہ کی کوششوں میٕں مدد مل سکے۔ اس ضمن میں، پرنسٹن یونیورسٹی اور امریکی محکمہٴتوانائی کی پرنسٹن پلازما فزکس لبارٹری (پی پی پی ایل) ایسے ہی ایک آلے کا نمونہ تیار کرنے میں مصروف ہیں، جس کی مدد سے صیغہ راز کی اطلاعات کو حاصل کیے بغیر، یہ ممکن ہوسکے گا کہ جوہری ہتھیاروں (وار ہیڈز) کے شمار کی تصدیق ہو سکے۔

ہفتہ وار مگزین،’نیچر‘ کے حوالے سے، اِی میگزین ’سائنس نیوز‘ میں شائع ہونے والے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اِس طریقہ کار کو ’زیرو نالج پروٹوکول‘ کا نام دیا گیا ہے۔

رابرٹ گولڈاسٹون ایک محقق، پرنسٹن لبارٹری کےایک سابق سربراہ اور پرنسٹن میں ’ایسٹرو فزیکل سائنسز‘ کے پروفیسر ہیں۔

بقول اُن کے، ہدف یہ ہے کہ ایک بااعتماد انداز سے اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ یہ واقعی ’اصل نیوکلیئر وارہیڈ‘ ہے، جب کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہ ہو کہ اس جوہری ہتھیار میں کون سا مواد استعمال ہوا اور اِس کا ڈزائین کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کئی برسوں سے جاری تخفیف اسلحہ کے معاہدوں کے زمرے میں آنے والے جوہری ہتھیاروں کی اصل مندرجات کی تصدیق کا کوئی آزادانہ نظام ترتیب دینے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن، جوہری ہتھیاروں کے شمار کے عمل کا کوئی قابل اعتبار آزادانہ طریقہ کار موجود نہیں۔

جوہری ہتھیاروں پر روایتی مذاکرات میں اسٹریٹجک یا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل-- ڈلوری سسٹم، مثلاً بم لے جانے کی صلاحیت، سب میرینز اور بیلسٹک میزائل شامل ہیں، جِن میں ’وارہیڈز‘ کی تصدیق شامل نہیں ہوتی۔

لیکن، یہ انداز ناکافی ثابت ہوتا ہے، جب کہ مستقبل کے مذاکرات ’ٹیکٹیکل‘ اور غیر تشکیل شدہ نیوکلیئر ہتھیاروں پر مرکوز ہوں گے، جن میں طویل فاصلے والے نظام شامل نہیں۔

اِس موضوع پر، پہلا تحقیقی مقالہ الیگزینڈر گلیزر نے لکھا تھا۔ وہ پرنسٹن کے وڈرو وِلسن اسکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز ؛ اور مکانیکل اینڈ ایئرواسپیس انجنیئرنگ کے محکمہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

گلیزر اور گولڈسٹن جس نظام کو وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ نئے طریقہ کار کے مؤثر ہونے کے ثبوت کے طور پر کسی وارہیڈ کا اصل ہتھیار سے موازنہ کریں گے۔ اس کے لیے جو طریقہ کار اپنایا جائے گا وہ یہ ہوگا کہ ’ہائی انرجی نیوٹرونز‘ کو جوہری ہتھیار سے گزارا جائے،اور یہ نوٹ کیا جائے کہ ’ڈٹیکٹرز‘کے دوسری طرف کتنے نیوٹرونز پہنچتے ہیں۔

اس عمل میں، کسی قسم کا کوئی ’کلاسی فائیڈ ڈیٹا‘ کی مدد نہیں لی جائے گی، اور کوئی الکٹرانک آلات استعمال نہیں ہوں گے، جو کسی طور پر جوہری ہتھیار پر اثرانداز ہوسکتے ہوں۔

اسٹیو فیٹر، یونیورسٹی آف میری لینڈ میں ’اسکول آف پبلک پالیسی‘ کے پروفیسر اور وائٹ ہاؤس کے ایک سابق اہل کار رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ انداز اپنانا نہایت موزوں اور مناسب ترین ہے۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ دیکھنا باقی ہے آیا اس پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

اس پروجیکٹ کا تجربہ کرنے کے لیے ’پی پی پی ایل‘ میں کام ہو رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کو ’نان نیوکلیئر‘ ہدف پر ’ہائی انرجی نیوٹرونز‘ کو ’فائر‘ کرنے کے منصوبے کا نام دیا گیا ہے۔ اسے ’برٹش ٹیسٹ آبجیکٹ‘ کا بھی نام دیا گیا ہے، جو ’وارہیڈز‘ میں ایک ’پراکسی‘ کے طور پر استعمال ہوگا۔ ٹیسٹ کے نتائج کا موازنہ کرنے کے لیے،تحقیق کار یہ دیکھیں گے کہ ہدف میں سے کتنے نیوٹرونز گزر کر ’بَبل ڈٹیکٹرز‘ تک پہنچتے ہیں، جنھین ’یئل یونیورسٹی‘ بنا رہی ہے۔ اِن ’ڈٹیکٹرز‘میں جھاگ بھری جاتی ہے، جو دوسری طرف جانے والے نیوٹرانز کا شمار کرتے ہیں، اور نتائج کا دارومدار اِسی پر ہوگا۔

یہ پروجیکٹ کینیڈا کے شہر، وینکوئر میں قائم ’سائمنز فاؤنڈیشن‘ کی ابتدائی گرانٹ سے شروع ہوا، جسے ایک بغیر نفع نقصان والے ادارے، ’گلوبل زیرو‘ نے پرنسٹن کے حوالے کیا۔

اس کے لیے، باقی اداروں کے علاوہ، امریکی محکمہٴخارجہ نے بھی حمایت فراہم کی۔ حال ہی میں ’نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن‘ نے پانچ سالہ مدت کے لیے مجموعی طور پر 35 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔

XS
SM
MD
LG