رسائی کے لنکس

جوہری توانائی سے منسلک خدشات


جوہری توانائی سے منسلک خدشات

جوہری توانائی سے منسلک خدشات

اگرچہ دنیا میں جوہری بجلی گھروں کی تعداد دوسرے روایتی بجلی گھروں کے مقابلے میں بہت کم ہے ، لیکن اسے سستی توانائی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔۔تاہم اس سے کچھ خطرات بھی منسلک ہیں اور گذشتہ ماہ جاپان میں زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان اور ری ایکٹر سے بڑے پیمانے پر تابکاری کے اخراج نےجوہری بجلی گھروں کے حفاظتی انتظامات پر ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔

جاپان میں گیارہ مارچ کے زلزلے اور سونامی کے باعث بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی جس کے باعث ایٹمی توانائی کے پلانٹ کے درجہ حرارت کو حفاظتی سطح پر برقرار رکھنے کا عمل بھی رک گیا۔ ہنگامی بنیادوں پر کاروائی کے باوجود جوہری پلانٹ کا درجہ حرات خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ اور پھر زلزلے کے ایک دن بعد جوہری پلانٹ کا ایک ری ایکٹر دھماکے سے پھٹ گیا۔ یہ بدترین صورتحال تھی ، اور دو دن کے بعد ایک اور ری ایکٹر بھی تباہ ہو گیا۔ اور اب تک ان تباہ شدہ ری ایکٹر ز سے تابکاری کا اخراج جاری ہے۔

جاپانی انتظامیہ نے فوکوشیما پلانٹ کے گرد 20 کلومیٹر کے دائرے کو لوگوں سے خالی کر والیا ہے، جس کی وجہ سے تقریبا 5 لاکھ افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ابھی تک اس علاقے کے ارد گرد لوگوں کے اندر تابکاری کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں کیونکہ علاقے سے باہر بھی لوگوں کے اندر تابکاری کے اثرات پائے گئےہیں۔

حکام اس حادثے کے بعد فوکوشیما پلانٹ میں موجود کنکریٹ اور سٹیل سے بنی عمارتوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جن میں نیوکلئیر ریکٹرز موجود ہیں۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سابق ڈائریکٹر فلپ جیمٹ کا کہنا ہے کہ ماحول کی حفاظت کے لیے بھی ان عمارتوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جوہری مادوں کو ذخیرہ کرنے والی یہ عمارتیں کسی بھی حادثے کی صورت میں ماحول اور لوگوں کو تابکاری سے بچانے کے لیے ایک آڑ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

25 سال پہلے یوکرائن میں چرنوبل کے مقام پر تاریخ کا بدترین جوہری حادثہ ہوا تھا۔ روس کے بنائے ہوئے ان ایٹمی ری ایکٹرز کے گرد کوئی حفاظتی عمارت یا ٹیوبز نہیں تھیں۔ 26 اپریل 1986ءکو وہاں ایک ایٹمی ری ایکٹر درجہ حرارت بڑھنے کے باعث دھماکے سے پھٹ گیا۔ اور تابکاری شعائیں چاروں طرف پر پھیل گئیں اور انہوں نے قریب واقع پرپیت نامی شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ری ایکٹر کے آس پاس آگ لگ گئی اور حکام کی طرف سے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریت اور آگ بجھانے کے دوسرے مادوں کے چھڑکاؤ کے باوجود وہاں کئی دن تک آگ لگی رہی۔ ہوا کے باعث تابکاری مادے ایک بڑے علاقے تک پھیل گئے ۔ یوکرائن، بیلارس ، روس، تھین، برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک تک تابکاری کے اثرات محسوس کیے گئے۔ چرنوبل کے ارد گرد 30 کلو میٹر کا علاقہ سیل کر دیا گیا۔ ہزاروں افراد کو چرنوبل اور پارپیت کے مقام کی صفائی کے لیے بھیجا گیا، اور حادثے کے مقام کے گرد ایک باڑ بھی تعمیر کی گئی ۔

پارپیت کا شہر اجڑ چکا ہے ۔شہر میں موجود تمام عمارتیں کھنڈر کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔50 ہزار باشندوں کے اس شہر میں اب صرف ویرانی ہے ۔ اب وہاں زندگی شاید ہی دوبارہ جنم لے سکے۔

روسی حکام کے مطابق براہ راست دھماکے سے 31 افراد ہلاک ہوئے ، جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق وہاں صفائی کے لیے جانے والے 2200 افراد موت کے منہ میں چلے گئے ۔ جبکہ اس حادثے کے نتیجے میں 4000 ہزار افراد کینسر اور تابکاری کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

چرنوبل کے حادثے سے 7 سال قبل امریکی ریاست پینسلوانیا میں تھری مائیل آئی لینڈ نامی جوہری پلانٹ کے حادثے نے جوہری پلانٹس کے حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو مزید بڑھا دیاتھا۔ اس حادثے میں بھی درجہ حررارت کے بڑھنے سے ایک ری ایکٹر کو نقصان پہنچا تھا لیکن ری ایکٹر کے گرد حفاظتی عمارت نے اسے بچا لیا اور تابکاری نے اردگرد کے ماحول کو زیادہ متاثر نہیں کیا۔

اس حادثے کے بعد امریکہ میں جوہری توانای کی پیداوار کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حادثات کے باعث دنیا بھر میں جوہری توانائی پیدا کرنے والی تمام کمپنیاں حفاظتی اقداما ت کو سب سے اہم سمجھتی ہیں اور اس سلسلے میں تربیت اور کام کے طریقہ کار کو بہتر کے لیے مسلسل کوشاں رہتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG