رسائی کے لنکس

جوہری تحفظ اور سلامتی پاکستان کی قومی ذمہ داری: سیکرٹری خارجہ

  • عشرت سلیم

سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری

سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اعزاز احمد چوہدری نے آئی اے ای اے کے سربراہ کو بتایا کہ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے لیے پاکستان کے پاس متعلقہ تجربہ، تربیت یافتہ افرادی قوت اور تنصیبات موجود ہیں۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان جوہری تحفظ اور سلامتی کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے۔

یہ بات انہوں نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو سے پیر کو ملاقات میں کہی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اعزاز احمد چوہدری نے آئی اے ای اے کے سربراہ کو بتایا کہ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے لیے پاکستان کے پاس متعلقہ تجربہ، تربیت یافتہ افرادی قوت اور تنصیبات موجود ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل امانو نے پاکستان کی طرف سے آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات کے نفاذ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ادارہ اپنے ٹیکنیکل کوآپریشن پروگرام کے ذریعے اپنے رکن ممالک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔

آئی اے ای اے کا ٹیکنیکل کوآپریشن پروگرام جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ اور پرامن استعمال میں رکن ممالک کی صلاحیت بڑھانے اور اسے برقرار رکھنے میں مدد کرتا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق آسٹریا کے سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر مائیکل لنہارٹ سے ملاقات میں اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی جوہری پالیسی تحمل اور ذمہ داری کے دہرے ستونوں پر استوار ہے۔

پاکستان کی حکومت ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں جوہری ٹیکنالوجی رکھنے والے دیگر ممالک سے تعاون کے خواہشمند ہے۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کی آئی اے ای اے کے سربراہ سے دو ماہ کے عرصہ میں یہ دوسری ملاقات تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس شعبے میں تعاون کے حصول کے لیے اپنی کوششیں تیز کی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے جوہری بجلی گھر لگ بھگ 40 سالوں سے آئی اے ای اے کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں اور چین نے پاکستان میں اس شعبے میں قابل ذکر سرمایہ کاری بھی کی ہے۔

XS
SM
MD
LG