رسائی کے لنکس

”پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے“


”پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے“

”پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے“

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی امریکہ میں پیر سے شروع ہونے والے جوہری سلامتی سے متعلق سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتے کو واشنگٹن روانہ ہوگئے ہیں۔ روانگی سے قبل اسلام آباد میں اُنھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوری دنیا کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اس حوالے سے اُن کی حکومت کو پوری قوم کا تعاون حاصل ہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اُنھوں نے اپنے اس دورے کے بارے میں پارلیمان کی سکیورٹی کمیٹی کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم گیلانی کے وفد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیدار بھی شامل ہیں۔

عبدالباسط

عبدالباسط

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم گیلانی کانفرنس کے شرکاء کو جوہری تنصیبات کی حفاظت کے لیے پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جوہر ی صلاحیت کا حامل ملک ہونے کے ناطے پاکستان سول اور فوجی استعمال کے جوہری مواد کو محفوظ بنانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے ۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے لیے کئی تہوں پر مشتمل ایک جامع نظام بنارکھا ہے۔ ترجمان کے مطابق جوہری صلاحیت کے حامل تمام ممالک کایہ مشترکہ مقصد ہے کہ” جوہری دہشت گردی“ نہیں ہونی چاہیئے۔

عبدالباسط کے مطابق جوہری ہتھیاروں سے متعلق نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد وزیراعظم گیلانی جوہری معاملات کے بارے میں کسی بھی بین الاقوامی اجلاس میں پہلی بار شرکت کر رہے ہیں۔ اس دو روزہ سربراہی کانفرنس میں 40 سے زائد ممالک کے قائدین کے علاوہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ”آئی ا ے ای اے“ کے ڈائریکٹر جنرل بھی شرکت کریں گے۔

حکام کے مطابق وزیراعظم گیلانی جوہری سلامتی کی سربراہی کانفرنس کے موقع پر امریکی صدر باراک اوباما اوراجلاس میں شریک دیگر ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کاوزیراعظم گیلانی کی امریکی صدر سے ہونے والی ملاقات میں حال ہی میں پاک امریکہ اسٹریٹیجک مذاکرات میں طے پانے والے معاملات کو آگے بڑھانے کے تناظر میں بات چیت ہو گی۔

XS
SM
MD
LG