رسائی کے لنکس

نیوکلیئر سمٹ کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام پر نئے سوالات


واشنگٹن میں نیوکلیئر سمٹ

واشنگٹن میں نیوکلیئر سمٹ

واشنگٹن میں اس ہفتے کے آغاز پر ہونے والی دو روزہ نیوکلیئر سمٹ ختم ہو چکی ہے مگر اس کے اغراض و مقاصد اور کامیابیوں پر بحث جاری ہےاور بحث کا ایک اہم پہلو پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی ہے۔ واشنگٹن کے بعض تجزیہ کارجہاں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں ، وہاں بعض کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی توسیع پر اعتراضات ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ایٹمی پروگرام بھی واشنگٹن کی نیوکلئیر کانفرنس کا موضوع ہونے چاہئے تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور روس جیسے سرد جنگ کے روایتی حریف ملک اپنے اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا دوسرا نیو سٹارٹ معاہدہ کر چکے ہیں اور جسے صدر اوباما کے مخالفین امریکی سلامتی کو داو پر لگانے کے مترادف جبکہ حامی ایک جر ات مندانہ اور تاریخی قدم قرار دے رہے ہیں ، واشنگٹن میں نہ تو ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی طاقت بننے کے خواب پرسوال اٹھانے والوں کی کمی ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کی جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی موجودگی اور توسیع پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

لیکن پاکستانی قیادت کی اپنے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہاتھوں میں ہونے کی یقین دہانیاں واشنگٹن کے ان ماہرین کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں جو نہ صرف ڈاکٹر عبد القدیر خان کی جانب سے 2004ءمیں ایٹمی معلومات ایران ، لیبیا اور شمالی کوریا کے حوالے کرنے کا اعتراف دیکھ چکے ہیں بلکہ پاکستان میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی پل پل بدلتی صورتحال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر مارون وائن بام کہتے ہیں کہ ہمیں فکر ہے کہ اگر پاکستان میں عدم استحکام بڑھتا ہے اور فوج بھی غیر مستحکم ہوتی ہے تو یہ خطرہ بہت بڑھ جائے گا۔ اور قانون شکن عناصر کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار جانے کا خدشہ رد نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ریٹائرڈ بریگیڈئیر نعیم سالک امریکی تجزیہ کاروں کے خدشات کو بے جا مبالغہ آمیزی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر القاعدہ کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے امریکی دعوے درست ہیں تو پھر ایسے خدشات کی کوئی وجہ نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ القاعدہ راہ فرار اختیار کر رہی ہے ، اسے ڈس مینٹل کر دیا گیا ہے۔ اس کےلیڈر فرار ہو رہے ہیں ،سوائے اسامہ اور الظواہری کے۔ تو ایک تنظیم جو پاکستان افغانستان کے بارڈر ریجن سے فرار ہو رہی ہے۔ یمن ، صومالیہ جا رہی ہے تو پاکستان کے نیو کلیئر ہتھیاروں کو اس میں گھسیٹنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ان چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ،،القاعدہ تخریب کاری کرسکتی ہے مگر ان کی رسائی پاکستانی ایٹمی ہتھیارون تک ہونا ممکن نہیں۔

مگر قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر پرویز ہود بھائی کا خیال اس سے مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ خوف تو لوگوں کے دل میں ہے امریکہ کے اندر بھی ہے ،امریکہ سے باہر بھی ہے۔ ۔ سچی بات کہی جائے تو پاکستان میں بھی ہے۔ آخر وہاں القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد تو ہیں اور ان کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ کسی طرح سے وہ ایٹمی مواد حاصل کریں اور وہ اس مواد ایک سادا بم میں استعمال ہو سکتا ہو۔ وہ بم پھر کہیں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ یورپ یا امریکہ میں ہی استعمال ہو۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں خود اس بم سے خطرہ ہے۔ آخر یہ وہی لوگ ہیں جو ہماری مسجدوں میں ، ہمارے جنازوں پر ، ہسپتالوں میں خود کش حملے کرتے ہیں۔ خدا نخواسطہ ایسی چیز ان کے ہاتھ میں آگئی تو پھر تو ہماری خیر نہیں ہے۔

دوسری طرف واشنگٹن کے ماہرین پاکستان اور امریکہ کے درمیان بھارت امریکہ طرز کی نیوکلیئر ڈیل کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے اسٹیفن کہتے ہیں کہ اوباما انتظامیہ کوایسی کوئی خواہش نہیں ،کیونکہ انتظامیہ میں ہتھیاروں کے ایسے مخالف (آرمز کنٹرولر)موجود ہیں جو امریکہ بھارت نیوکلیئر معاہدے کے بھی خلاف ہیں۔

جبکہ واشنگٹن آنے والے پاکستانی ماہرین کی رائے بھی امریکہ اور پاکستان کے درمیان کسی نیوکلیئر ڈیل کی ضرورت کے حوالے سے ایک جیسی نہیں۔ بریگیڈیئر نعیم سالک کہتے ہیں کہ پاکستان نے یہ معاملہ اٹھایا ضرور مگر یہاں دو طرفہ بات چیت نہیں ایک ملٹی لیٹرل فورم تھا۔ پاکستان نے اپنا کیس پیش ضرور کیا مگر ان میں بہت سے ملک تھے روس ، فرانس۔ تو پاکستان اپنا دعوی کر رہا ہے۔ مگر جیسے میں نے کہا انڈیا یو ایس ڈیل نے ایک روایت سیٹ کر دی ہے۔ اور جلد یا بدیر پاکستان کے لئے بھی راستہ کھل جائے گا اور میرا خیال ہے کہ روس یا فرانس جن کے کمرشل انٹرسٹس ہیں وہ پاکستان کو ایٹمی پلانٹ بیچنے پر تیار ہو جائیں گے ،جلد یا بدیر۔

اس حوالے سے پرویز ہود بھائی کہتے ہیں کہ مگر جو بڑی بات ہے اور جس پر کسی نے کوئی خاص تبصرہ نہیں کیا وہ یہ کہ اگر ایسا معاہدہ ہو بھی جاتا تو پاکستان کا فائدہ کیا ہوگا۔ اس لئے کہ ایٹمی بجلی گھر سے اگر آُپ بجلی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے بحران کو دیکھتے ہوئے تو یہ بجلی بڑی مہنگی پڑے گی۔ ہم نے چین سے دو چھوٹے چھوٹے پلانٹس خریدے ، تیس میگا واٹ کے۔ کل ملاکے دو سو نوے گیگا بائٹ بنتا۔ ہم ایک ہزار میگا واٹ کا پلانٹ امریکہ سے خریدتے ہیں تو وہ تو اتنا مہنگا پڑے گا کہ وہ جو چین والا تھا وہ ایک ارب ڈالر کا ایک تھا۔ تین ارب ڈالر لگے ان پلانٹس کو خریدنے میں۔ اگر ہم امریکہ سے ایک بڑا پلانٹ خریدتے ہیں تو وہ اس قدر مہنگا ہوگا کہ ہم تو وہ افورڈ ہی نہیں کر پائیں گے۔

واشنگٹن کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اوباما انتظامیہ کو جنوبی ایشیا کی دونوں ایٹمی طاقتوں سے تعلقات میں توازن قائم رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے اس لئے نیوکلیئر کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے ایٹمی ذخائر میں اضافے کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگلے دو سالوں میں اس نوعیت کی اگلی عالمی کانفرنس کا ایجنڈا ممکنہ طور پر مختلف ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG