رسائی کے لنکس

جوہری دہشت گردی سے نمٹنے کی مشق

  • ڈیبورا بلاک

جوہری دہشت گردی سے نمٹنے کی مشق

جوہری دہشت گردی سے نمٹنے کی مشق

جب بات دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی ہوتی ہے تو ان میں آج ایٹمی دہشت گردی کے خطرے کوبھی شامل کیا جاتا ہے جو ایک اہم چیلنج بن کر ابھر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی فوج اور نیشنل گارڈز کے تین ہزار جوان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے امریکی ریاست انڈیانا میں کسی ایٹمی حملے کی صورتحال سے نمٹنے کی تربیتی مشق کی۔

جنوبی ریاست انڈیانا کے سب سے بڑے شہر انڈیاناپولس کے ایک تربیتی مرکز میں ایک فرضی جوہری حملے کے بعدبڑے پیمانے پر عمارتوں بھڑک رہی تھی اور ان کا ملبہ سڑکوں پر بکھرا پڑا تھا۔ حملے میں زندہ بچ جانے والے سراسیمگی کے عالم میں طبی امداد کے منتظر تھے۔

امریکی نیشنل گارڈ ز، فوج ، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والا دیگر عملہ دہشت گردی کے اس واقعے سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف تھا اور مشق کے دوران اندازہ لگایا گیاتھا کہ اس حملے میں ایک لاکھ افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے اور دس لاکھ لوگوں کو شہر خالی کرنا پڑ سکتا ہے ۔

فوجی جنرل جیمز لارسن جو اس تربیتی مشق کی قیادت کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشق کے دوران سب سے اہم تربیت یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں کام کیسے کیا جائے ۔ہمیں عام طور پر اتنی بری صورتحال کا سامنا کرنے کا موقعہ نہیں ملتا ۔

حقیقی ایٹمی حملے کی صورت میں ہزاروں افراد کو فوری طور پر تابکاری سے بچانے کی ضرورت ہوگی مگر اس فرضی حملے کے متاثرین کو کیمیکلز کی بجائے پانی کے ذریعے مضر اثرات سے بچانے کوشش کی جا رہی تھی ۔ لیفٹننٹ زکریہ ڈیوس امریکی فوج میں نرس کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فرضی مشق کے دوران بھی لوگوں تک فوری مدد پہنچانا آسان نہیں تھا کیونکہ فوجی امدادی گروپوں کے درمیان رابطے کی کمی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں کے کئی یونٹ ، اور ملک کے مختلف حصوں سے فراہم کی جانے والی امدادی کوششوں کو مل کر ایک ٹیم کی طرح کام کرنا ہوگا اور ہم یہاں اسی چیز کی مشق کررہے ہیں۔

مشق میں حصہ لینے والوں نے ہر ممکن طریقے سے حقیقی انداز سے کام کرنے کی کوشش کی اور تربیت میں شامل فوجیوں کو بالکل علم نہیں تھا کہ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔

ہنگامی امدادی عملہ ہیلی کاپٹروں اور ایمبولینسوں کی مدد سے متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کررہاتھا اور ہنگامی پیغامات پہنچانے کے لئے لاؤڈ اسپیکر استعمال کیے جارہے تھے۔

مشق میں پولیس نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے گرفتار کیا ہے ۔اور پریس کانفرنس کی کوریج کے لئے فرضی صحافی اور کیمرہ مین بھی موجود موجود تھے۔

مائیکل ریمر عمارتوں کا ملبہ کا ملبہ اٹھانے والی ایک کمپنی سیفٹی سلوشنز کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ مشق میں اس کمپنی کے کارکن بھی شریک تھے۔ریمز کا کہنا ہے کہ ہم نے مشق کے لیے ایک قریبی عمارت کا ملبہ حاصل کیا تھا اور اس کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے مشق کے مقام پر بکھیر دیے تھے۔

تربیت کے دوران فوجیوں نے عمارتوں کے ملبے میں پھنسے ہوئے زندہ افراد کو محفوظ انداز میں نکالنے کی مشق کی۔

ہنگامی صورتحال کی اس مشق کا جائزہ لینے والے امریکی فوجی مبصرین نے امدادی عملے کی کارکردگی بڑھانے کے لئے کچھ تجاویز بھی پیش کیں ۔ مشق کے دوران اس بات کا جائزہ بھی لیا گیا کہ فوجیوں کو ایک کام مکمل کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے کیونکہ جوہری دہشت گردی کی صورت میں زندگی اور موت کے درمیان کا فاصلہ وہ وقت ہوسکتا ہے جو امدادی عملےکو متاثرین تک پہنچنے میں لگ سکتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG