رسائی کے لنکس

جوہری مذاکرات: ایران کو سخت شرائط کا سامنا ہوگا


جوہری مذاکرات: ایران کو سخت شرائط کا سامنا ہوگا

جوہری مذاکرات: ایران کو سخت شرائط کا سامنا ہوگا

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز نے کہا ہے کہ اگر ایران اِس سال کے اوائل میں لگائی گئی بین الاقوامی تعزیرات سے نجات کا خواہاں ہے تو اُسے جوہری ایندھن کی منتقلی پر سخت شرائط قبول کرنا ہوں گی۔

گِبز نے یہ بات ‘نیویارک ٹائمز’کی ایک رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کی جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اُس کے یورپی اتحادی ایران کے لیے نئی پیش کش تیار کررہے ہیں، تاکہ اُسے جوہری مذاکرات کی طرف لوٹنے کی ترغیب دی جا سکے۔

اخبار میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ شرائط اُن کے مقابلے میں سخت ہوں گی جِن تجاویز کو تہران نے گذشتہ برس مسترد کر دیا تھا ۔ یہ منصوبہ جس کو بین الاقوامی جوہری ادارے کی حمایت حاصل ہے اُس کے تحت مزید افزودگی کے لیے تہران کو کم درجے افزودہ یورینئم کا 70فی صد بیرونِ ملک بھجوانا ہوگا۔

گِبز نے بتایا کہ اُس وقت سے ایران نے یورینئم افزودہ کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ نتیجاً ، گزرنے والے ہر دِن ایران کی ذمہ داریاں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔

اقوإٕمِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے یورینئم کی افزودگی ترک کرنے سے انکار پر جون میں ایران کے خلاف تعزیرات کے چوتھے دور کا نفاذ کیا تھا۔ اُس کے بعد، امریکہ اور یورپی یونین نے مزید تعزیرات لاگو کر دی ہیں۔

امکان ہے کہ ایران، سلامتی کونسل اور جرمنی سمیت پانچ مسقتل رکن ممالک کے نمائندے جنھیں پی فائیو اور ایک کے گروپ کا نام دیا جاتا ہے، اُن کے درمیان یہ مذاکرات نومبر کے وسط میں ویانا میں ہوں گے۔

دریں اثنا، امریکی محکمہ ٴخزانہ کے چوٹی کے ایک عہدے دار نے وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کو بتایا کہ ایران ایک وسیع ڈھانچے کا استعمال کر تے ہوئے جہازرانی کی اپنی قومی کمپنی کی اصل کارگزاری پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔

مالیات کے معاون وزیر اسٹوئرٹ لیوی نے یہ بیان بدھ کے روز اُن 37کمپنیوں اور پانچ ایرانی افراد کے خلاف عائد کی جانے والی تعزیرات کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئےدیا، جِن پر الزام ہے کہ اقوام متحدہ کی قدغنوں سے بچنے کے لیے اِنھیں ایران کی شپنگ کمپنی استعمال کر تی رہی ہے۔

محکمہ ٴ خزانہ نے کہا ہے کہ یہ نام نہاد‘ فرنٹ کمپنیاں’ جرمنی، مالٹا اور قبرص میں قائم تھیں اور بڑے پیمانے پر تباہی لانے والے ہتھیاروں کی تیاری کی کوششوں میں ایران بحری جہازوں کی سہولیات کا غیر قانونی استعمال کر رہا تھا۔

مغربی ممالک ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا کہناہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG