رسائی کے لنکس

صومالیہ میں بچہ فوجیوں کی تعداد پانچ ہزار تک ہو سکتی ہے: اقوام متحدہ


الشباب میں شامل ایک بچہ اسلحہ اٹھائے ہوئے ہے

الشباب میں شامل ایک بچہ اسلحہ اٹھائے ہوئے ہے

ماضی میں یونیسف کے اندازاوں کے مطابق لڑائی کے لیے بھرتی کیے گئے بچوں کی تعداد دو سے تین ہزار کے درمیان تھی اور ان میں سے بعض نو سال کے کم سن بھی شامل تھے

اقوام متحدہ کے ادارہ براہ اطفال کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ایسے میں جب شدت پسند گروپ الشباب اپنی بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے صومالیہ میں لڑائی کے لیے بھرتی کیے گئے بچوں کی تعداد پانچ ہزار ہو سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ کی صومالی سروس سے گفتگو میں "یونیسف" کی کمیونیکیشن چیف سوسانا پرائس نے بتایا کہ بچوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کرنا اور انھیں فوج کے طور پر استعمال کرنے کے جمع کیے گئے اعدادوشمار حیرت انگیز طور پر کافی زیادہ ہیں۔

"یہ ایک بہت ہی زیادہ پریشان کن صورتحال ہے۔۔۔دراصل پانچ ہزار بچے ہوں گے فوج میں شامل ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ الشباب بچوں کو بھرتی کرنے کی مہم چلانے میں ملوث رہا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ بعض اوقات پیسے یا خوراک بھی دے رہے ہوں۔ بے گھر افراد کے کیمپ ان لوگوں کے لیے آسان ہدف ہے۔"

ماضی میں یونیسف کے اندازاوں کے مطابق لڑائی کے لیے بھرتی کیے گئے بچوں کی تعداد دو سے تین ہزار کے درمیان تھی اور ان میں سے بعض نو سال کے کم سن بھی شامل تھے اور یہ بچے صومالی مسلح افواج میں شامل تھے۔

یہ انکشاف ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب براعظم افریقہ میں جمعرات کو بچوں کو دن منایا گیا جس کا اس بار موضوع تھا "افریقہ میں تنازع اور بحران: بچوں کے تمام حقوق کا تحفظ"۔

صومالیہ نے بچوں کے حقوق سے متعلق یونیسف کے میثاق کی توثیق بھی کر رکھی ہے۔

اس توثیق کا مطلب یہ ہے کہ صومالی بچوں کو اب قانونی طور پر حقوق حاصل ہیں جن کے تحت حکومت کو ان پر عملدرآمد کے لیے لائحہ عمل وضع کرنا ہے۔

سوسانا پرائس نے صومالیہ کے رہنماوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کو ترجیح دیں اور ان بچوں کے لیے محفوظ ماحول وضع کریں۔

XS
SM
MD
LG