رسائی کے لنکس

نیویارک سٹی کونسل کے اراکین کا ٹرمپ کے خلاف احتجاج


مظاہرہ بدھ کو صبح دس بجے شروع ہوا اور دو گھنٹے تک جاری رہا۔ مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو ’نفرت انگیز‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی

نیویارک کی منتخب سٹی کونسل کے اراکین اور بین المذاہب رہنماؤں نے ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے خلاف شہری حکومت کی تاریخی عمارت کی سیڑھیوں پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بیان کی مذمت کی ہے۔

سٹی کونسل کی پہلی سیاہ فام خاتون ایڈوکیٹ، ملیسا مارک کی اپیل پر بدھ کی صبح ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

یہ مظاہرہ مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے خلاف کیا گیا تھا، جس میں سٹی کونسل کے درجنوں اراکین کے علاوہ مختلف مذاہب کے رہنما شریک ہوئے۔

مظاہرہ صبح 10 بجے شروع ہوا اور دو گھنٹے تک جاری رہا۔ مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو ’نفرت انگیز‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی تھی۔

مظاہرے کی منتظمہ ملیسا مارک نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سخت جملے استمعال کئے۔ بقول اُن کے، ’امریکی آئین کے مطابق وہ صدارتی امیدوار ہونے کے اہل نہیں رہے‘۔

اس موقع پر، بعض دیگر سیاہ فام رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ابھی امریکہ سے نفرت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا، یہ کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگ معاشرے میں نفرت کا زہر گھول رہے ہیں‘۔

سٹی کونسل میں یہودی کاکس کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ امریکی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت ہی مخصوص طبقہ دہشت گردی میں ملوث ہے، اس بنیاد پر تمام مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔

سٹی کونسل کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ یہی کچھ اس معاشرے میں یہودیوں کے ساتھ ہوا تھا، جب انھیں امریکہ سے نکال دیا گیا، اور جب وہ واپس جرمنی پہنچے تو انھیں قتل کردیا گیا تھا۔ انھوں نے واضح کیا کہ امریکی کبھی اس تاریخ کو دہرانے نہیں دیں گے۔

نیویارک کی مسلم پولیس افیسرز ایسوسی ایشن کے صدر، کیپٹن رانا عدیل نے اس موقع پر کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ’مایوس کن‘ ہے، ’جس کی نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا مذمت کی جا رہی ہے‘۔

XS
SM
MD
LG