رسائی کے لنکس

عدالت میں کاغذات داخل: شہزادکا ٹائمز سکوائربم دھماکے کی کوشش کا اقرار


اہل کاروں کاکہناہے کہ مشتبہ شخص نےٹائمز سکوائربم حملےکی کوشش کے علاوہ یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ پاکستان میں دھماکہ خیز مواد کے بارے میں تربیت لے چکے ہے

فیصل شہزاد نے اپنی گرفتاری کے بعد نہ صرف نیو یارک کے ٹائمز سکوائر میں کار بم دھماکہ کرنے کی کوشش کا اقرار کیا بلکہ ایف بی آئی کو یہ بھی بتایا کہ اُس نے وزیرستان میں بم بنانے کی تربیت حاصل کی ہے۔ یہ بات عدالت میں داخل کیے گئے کاغذات میں بتائی گئی ہے۔

شہزاد کو نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ائرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ دبئی جانے والے جہاز پر سوار تھے۔ ائر لائن کے مطابق اُن کے پاس دبئی سے آگے پاکستان تک کی ریزرویشن تھی۔

عدالت میں داخل کردہ کاغذات کے مطابق ٹائمز سکوائر پر حملے کی کوشش میں استعمال ہونے والی گاڑی، سبز نسان پاتھ فائنڈر، میں سے فیصل شہزاد کے گھر اور ان کے ذاتی استعمال کی گاڑی اسوزو کی چابیاں بھی ملی تھیں۔ شہزاد نے حکام کو یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی ذاتی اسوزو گاڑی پر ائرپورٹ گیا تھا اور گاڑی ائر پورٹ پر چھوڑ دی تھی۔ اس گاڑی میں سے حکام کو ایک پستول بھی ملا ہے۔

ایف بی آئی کے مطابق فیصل شہزاد، جنہیں گذشتہ برس ہی امریکی شہریت ملی تھی، پاکستان سے یک طرفہ ٹکٹ لے کر تین فروری کو امریکہ آئے تھے۔ انہوں نے امیگریشن حکام کو بتایا تھا کہ وہ پانچ ماہ پاکستان میں اپنے والدین کے پاس تھے اور ان کی اہلیہ پاکستان میں ہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہزاد نے ٹائمز سکوائر میں استعمال ہونے والی پرانی سبز گاڑی 1300 ڈالر کیش دے کر خریدی تھی اور اس کی کوئی رسید یا کاغذات حاصل نہیں کیے تھے۔ اس کے بعد اُنہوں نے گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگا دی تھی اور شیشے گہرے رنگ کے کر دیے تھے۔

گاڑی بیچنے والے نے چھ تصاویر میں سے شہزاد کی تصویر گاڑی کے خریدار کے طور پر پہچانی تھی۔

عدالتی کاغذات کے مطابق گاڑی خریدنے کے لیے شہزاد نے پری پیڈ سیل فون استعمال کیا تھا، یعنی ایسا سیل فون جس کے لیے پہلے سے منٹ خرید لیے جاتے ہیں۔ فون کمپنی ویرائزن وائرلیس کے ریکارڈ سے پتہ چلا ہے کہ گاڑی خریدنے سے چند گھنٹے قبل اُس فون پر ایک پاکستانی نمبر سے چار کالیں آئی تھیں۔

اِسی فون سے 25 اپریل کو امریکی ریاست پینسیلوینیا میں پھُل جھڑیاں اور پٹاخے بیچنے والے ایک سٹور کو بھی کال کی گئی تھی۔ یہ سٹور ایم 88 نامی اس قسم کے پٹاخے بیچتا ہے جو ٹائمز سکوائر میں گاڑی سے ملے تھے۔

عدالت کے کاغذات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شہزاد کے مالک مکان نے ان کے گیراج میں کھاد کی دو بوریاں دیکھی تھیں۔ ٹائمز سکوائر کے بم میں کھاد کا استعمال بھی کیا گیا تھا۔

فیصل شہزاد (فائل فوٹو)

فیصل شہزاد (فائل فوٹو)

فیصل شہزاد پر جو پانچ الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں وسیع تباہی پھیلانے والا ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش، انسانی جانیں لینے کی کوشش، املاک کو تباہ کرنے کی کوشش، نیو یارک میں ایک گاڑی میں دھماکہ خیز مواد پھاڑنے کی کوشش، اور جانتے بوجھتے ہوئے ہلاکتوں کی غرض سے دھماکہ خیز مواد حاصل کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

امریکی قانون کے مطابق گرفتاری کے 48 گھنٹے کے اندر اندر شہزاد کو عدالت میں پیش کر کے ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفصیل بتائی جائے گی اور انہوں نے وکیل کرنے کا حق دیا جائے گا۔ اگر وہ خود معاشی طور پر وکیل کرنے کے قابل نہ ہوں تو انہیں حکومت کی طرف سے وکیل مہیا کیا جائے گا۔ اس پیشی میں جج یہ فیصلہ کرے گا کہ اُسے زیرِ حراست رکھا جائے یا ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔

اگلے مرحلے میں شہزاد کو اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا اعتراف یا تردید کرنی ہوگی، جس کے بعد یا تو ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا یا سزا سنائی جائے گی۔


XS
SM
MD
LG