رسائی کے لنکس

نیو یارک: مشتبہ دہشت گرد گرفتار


نیو یارک: مشتبہ دہشت گرد گرفتار

نیو یارک: مشتبہ دہشت گرد گرفتار

عہدیداروں کے مطابق فوجی جوانوں کے علاوہ پولیس اور پوسٹ آفس کے اہلکار بھی ملزم کا ہدف تھے

نیویارک پولیس نےمین ہٹن کے ایک باشندہ کو گرفتار کرلیا ہےجو مشتبہ طور پر مختلف اہداف پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، جس میں پولیس گاڑیوں پرحملے بھی شامل تھے۔ یہ بات نیو یارک سٹی پولیس کی تفتیشی ٹیم سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتائی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ مشتبہ دہشت گرد ٹائم اسکوائرپربم دھماکے اور امریکہ کے ملازمین کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

بعدازاں، نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی اور ڈسٹرکٹ اٹارنی سائرس وینس کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کی، جس میں اُنھوں نے بتایا کہ گرفتار ہونے والا 27 سالہ جوز پیمینٹل نیویارک میں بم دھماکہ کرنے کے منصوبہ بندی کررہا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ بظاہر اس شخص کا تعلق کسی دہشتگرد گروپ سے نہیں، مگر وہ القاعدہ اور انتہاپسند عالم انور الاولاکی کے تصورات سے متاثر نظر آتا ہے۔

اس موقع پر، پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے بتایا کہ ملزم کے خلاف دہشتگردی سے متعلق تین الزامازت عائد کیے گئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ملزم ایک پائپ بم دھماکے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، جس طریقہ کار کے بارے میں اس نے معلومات القائدہ کے ایک میگزین سے حاصل کی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم کا ارادہ تھا کہ وہ عراق اور افغانستان سے واپس آنے والے فوجیوں کو اپنا ہدف بنائےگا۔

عہدیداروں کے مطابق فوجی جوانوں کے علاوہ پولیس اور پوسٹ آفس کے اہلکار بھی ملزم کا ہدف تھے۔

پولیس کمشنر کیلی نے بتایا کہ ملزم جوزپیمنٹل کی مشتبہہ سرگرمیوں کی وجہ سے مئی سنہ 2009 سے خفیہ نگرانی کی جا رہی تھی۔

اُس نے عرب خطے سے شائع ہونے والے القائدہ کے نظریات کے حامی ایک میگزین سے پائپ بم بنانے کی ہدایات حاصل کیں۔

عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کےمطابق جوز پیمنٹل نےاعتراف کیا ہےکہ جب اسے گرفتار کیا گیا تواسے بم بنانے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے محض ایک گھنٹہ مزید درکار تھا۔ ملزم کو ہفتے کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔

حکام نے مزید بتایا ہےکہ ملزم پیدائشی طور پرڈومینین ری پبلک سےتعلق رکھتا ہے، لیکن اس نے زندگی کا زیادہ تر حصہ نیویارک شہر میں گزارا ہے۔ بتایا گیا ہےکہ ملزم نے اپنا مذہب تبدیل کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ القائدہ کے راہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اپنا نام اسامہ حسین رکھنے پرغور کر رہا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ملزم، اس سال یمن میں امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے انتہاپسند عالم انور الاولاکی کا پیروکار تھا۔

مبصرین کے بقول نائن الیون کی دہشتگرد حملے کے بعد سے نیویارک، دہشتگردوں کی نئی کارروائیوں کے منصوبوں میں بظاہر اہم ہدف رہا ہے۔ سال 2009ء میں افغان نژاد نجیب اللہ زازی کی گرفتاری اور 2010ء میں ٹائم اسکوائر پربم حملےکی کوشش کرنےوالے اپک پاکستانی نژاد فیصل شہزاد کی گرفتاری اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

XS
SM
MD
LG