رسائی کے لنکس

ایک سو مساجد کے شہر میں نئی مسجد کی مخالفت کیوں

  • پیٹر فیڈنسکی

نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے قریب وہ عمارت جہاں اسلامی ثقافتی مرکز اور مسجد تعمیر کی جائے گی

نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے قریب وہ عمارت جہاں اسلامی ثقافتی مرکز اور مسجد تعمیر کی جائے گی

گراؤنڈ زیرو سے چند بلاک کے فاصلے پر اسلامک سینٹر کے قیام کا منصوبہ کی مخالفت اور حق میں دلائل کی شدت میں اضافہ ہوتا رہاہے ۔ نیویارک کی انتظامیہ مجوزہ مسجد اور اسلامی ثقافتی مرکز کی تعمیر کی اجازت دے چکی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے جب اس شہر میں مسلمانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد آباد ہے اور یہاں پہلے سے ہی تقریبا ایک سو چھوٹی بڑی مساجد موجود ہیں توشخصی آزادیوں کی اس سرزمین پر مسلمان عبادت گاہ کی تعمیر متنازعہ کیوں سمجھی جا رہی ہے۔

نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردحملوں کو تقریباً نوسال ہوچکے ہیں ۔ اتنا وقت گزر جانے کےباوجود اس مقام سے چند بلاک کے فاصلے پر اسلامک سینٹر کے قیام کا منصوبہ کی مخالفت اور حق میں دلائل کی شدت میں اضافہ ہوتا رہاہے ۔ نیویارک کی انتظامیہ مجوزہ مسجد اور اسلامی ثقافتی مرکز کی تعمیر کی اجازت دے چکی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے جب اس شہر میں مسلمانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد آباد ہے اور یہاں پہلے سے ہی تقریبا ایک سو چھوٹی بڑی مساجد موجود ہیں توشخصی آزادیوں کی اس سرزمین پر مسلمان عبادت گاہ کی تعمیر متنازعہ کیوں سمجھی جا رہی ہے۔

نیویارک کے سٹیٹن آئی لینڈ میں قائم ایک مسجد میں تقریبا دو ہزار مسلمان نماز جمعہ ادا کرتے ہیں ۔ مسجد کے امام طاہر کوکج کا کہنا ہے کہ مسجد بنانے کی ضرورت علاقے میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پیش آئی ۔

وہ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں البانوی اور مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، اور اس وقت بھی بڑھ رہی تھی ۔ البانوی مسلمانوں کی اپنی بھی ایک چھوٹی سی مسجد تھی جو وین ڈوسن سٹریٹ پر تھی ۔ لیکن وہ ہماری کمیونٹی کی ضرورت کے لئے کافی نہیں تھی ۔

امام طاہر کوکج کا کہنا ہے کہ ان کی مسجد میں آنے والے مسلمان نیویارک کے مقامی گرجا گھروں اور یہودی سینیگاگز کے ساتھ مل کر خوراک اور خون کے عطیات اکٹھے کرنے ، نوجوانوں کے لئے تربیتی کیمپس لگانے اور معمر افراد کی دیکھ بھال جیسی خدمت خلق کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

نیویارک میں اس وقت مین ہٹن کی بالائی مشرقی طرف قائم کی گئی مرکزی مسجد سمیت تقریبا ایک سو مساجد قائم ہیں ۔ سٹیٹن آئی لینڈکے مصری مسلمانوں کی اس مسجد سمیت چھوٹی چھوٹی ایسی کئی مساجد مکانوں کو تبدیل کر کے بنائی گئی ہیں ۔ اس مسجد کے امام ابو شکور کا کہنا ہے کہ کسی بھی عمارت کی تعمیر کی طرح مساجد کی تعمیر بھی مقامی حکومتوں کے تعاون سے عمل میں آنی چاہئے ۔

ایک سو مساجد کے شہر میں نئی مسجد کی مخالفت کیوں

ایک سو مساجد کے شہر میں نئی مسجد کی مخالفت کیوں

وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے چاہا اور اگر مستقبل میں ہم نے درست طریقے سے اپنے وسائل کو استعمال کیا تو ہم امریکہ میں امریکی قوانین کے اندر رہتے ہوئے مزید مسجدیں قائم کر سکتے ہیں ۔

ہرلم کے علاقے میں قائم یہ مسجد مسلمان کمیونٹی کو ایک سکول اور مختلف سماجی سرگرمیوں کے لئے جگہ بھی مہیا کرتی ہے ۔ یہ مسجد چھوٹے کاروباروں کے لئے جگہ کرائے پر بھی دیتی ہے ۔ مقامی لوگوں کا تو یہ کہنا ہے کہ یہ مسجد طویل عرصے سے اس علاقے کا حصہ ہے، مگر 1965 میں اس عمارت میں جہاں اب مسجد واقع ہے ایک جوا خانہ ہوا کرتا تھا ۔

جیریلین ڈاڈ نیویارک کے سارہ لارنس کالج کی ڈین ہیں اور انہوں نے نیویارک کی مساجد پر ایک کتاب لکھی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مسلمان کمیونٹی کی تعداد 1960ء کی دہائی میں زیادہ بڑھی جب غیر یورپی ملکوں سے تارکین وطن کی آمد سے کوٹے کی پابندی ختم کی گئی ۔ نیویارک میں پہلے سے موجود مساجد میں سے ایک اسی گراونڈ زیرو کے قریب ہے ،جہاں نیا اسلامک سینٹر قائم کرنا کا منصوبہ امریکہ میں ایک گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک عمارت کی یہ صلاحیت کہ وہ لوگوں کے جذبات کو مہمیز کر دے اس وقت بڑھ جاتی ہے جب اسے ثقافتی اہمیت بھی دی جاتی ہے۔ نیویارک میں ہم عمارتوں کو بہت اہمیت دینے کے عادی ہیں ۔ ہم انہیں سنبھال کر رکھتے ہیں اور ایسی علامت بنا لیتے ہیں جس کی مثال دوسرے شہروں میں نظر نہیں آتی ۔

ایک سو مساجد کے شہر میں نئی مسجد کی مخالفت کیوں

ایک سو مساجد کے شہر میں نئی مسجد کی مخالفت کیوں

یہی وجہ ہے کہ نیویارک میں ایک نئے اسلامک سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ جو ابھی صرف کاغذوں پر موجود ہے گیارہ ستمبر 2001ء ایک کی دہشت گردی کی علامت سمجھے جانے والے جڑواں ٹاور زسے متصادم ہو رہا ہے ۔ مگر جیریلین ڈاڈ کا کہنا ہے کہ کسی بھی عمارت میں سب سے اہم اس کا تعمیراتی ڈھانچہ نہیں ، وہ لوگ ہوتے ہیں جو اسے استعمال کرتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG