رسائی کے لنکس

نیو یارک کے پاکستانی نژاد پولیس اہل کار نے کہا ہے کہ ’موجودہ حالات میں خصوصی طور پر مسلم خواتین اور بچیاں بازاروں میں جاتے ہوئے گروپ کی صورت میں جائیں۔ گرچہ تشویش کی کوئی بات نہیں۔ لیکن، تحفظ کے لئے ہوشیار رہنا ضروری ہے‘

نیویارک پولیس کے پہلے مسلمان اہل کار، وحید اختر نے کمیونٹی کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں نہ صرف نقل و حرکت میں احتیاط برتی جائے، بلکہ کمیونٹی لیڈر متحد ہو کر اپنے حقوق کے تحفظ کی مہم شروع کریں۔

اُنھوں نے یہ بات اتوار کی شب بروکلین کے ایک مقامی ریستوراں میں بےنظیر بھٹو کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انھیں کمیونٹی کے لئے خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیا گیا تھا۔

وحید اختر کے بقول، ’مسلمان امریکی معاشرے کا لازمی جُزو ہیں۔۔۔۔ آئین کے مطابق، سب کے حقوق مساوی ہیں۔۔۔۔ اگر مسائل درپیش ہوں، تو کمیونٹی کی سیاسی قیادت متحد ہو کر، آگے بڑھے اور اپنے حقوق طلب کرے‘۔

کیپٹن وحید اختر نے ’این وائی پی ڈی مسلم آفیسرز ایسوسی ایشن‘ کی ویب سائیٹ کا ذکر کیا، اور کمیونٹی سے کہا کہ ’جہاں ضرورت ہو ان سے رابطہ کیا جائے اور ہر مسئلے پر تبادلہٴ خیال کی تلقین کی‘۔

بقول اُن کے، ’آپ کے خاندان کے کسی بھی فرد کو کسی بھی طرح غیر قانونی طور پر تنگ کیا جا رہا ہو یا کسی غیر قانونی کارروائی کا شکار ہو رہے ہوں، تو پولیس کو اس کی اطلاع ضرور دی جائے‘۔

انھوں نے زور دیا کہ ’بحثیت شہری، مسلم کمیونٹی کو ان کے حقوق معلوم ہونے چاہیں، تاکہ کوئی ان کی حق تلفی نہ کرسکے‘۔

کیپٹن وحید اختر نے کہا کہ موجودہ حالات میں خصوصی طور پر خواتین اور بچیاں بازاروں میں جاتے ہوئے گروپ کی صورت میں جائیں، گرچہ تشویش کی کوئی بات نہیں۔ لیکن، تحفظ کے لئے ہوشیار رہنا ضروری ہے‘۔

بےنظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر نیویارک کے علاوہ شکاگو اور دیگر شہروں میں بھی تقریبات منعقد کی گئیں، جن میں سرگرم کارکنوں نے انتہا پسندی کے خلاف ڈٹ جانے کے عزم کا اظہار کیا۔

XS
SM
MD
LG